خطبات محمود (جلد 28) — Page 303
خطبات محمود 303 سال 1947ء ہو گئے ، بعض اپنی سواریوں سے گو دپڑے اور پیدل دوڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے۔اور بعض جن کی سواریاں نہ مڑ میں انہوں نے اپنے اونٹ اور گھوڑوں کی گردنیں اپنی تلواروں سے کاٹ دیں اور خود دوڑتے ہوئے اور لبیک يَا رَسُولَ اللهِ لَبَّیک کہتے ہوئے چند منٹ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہو گئے 11۔تو دیکھو یہ لوگ گرار تھے قرار نہیں تھے۔یہ بھاگے نہیں تھے بلکہ عارضی طور پر پیچھے ہٹ کر پھر دشمن پر حملہ آور ہوئے۔پس تم اپنے ملک میں واپس جاؤ اور خدا تعالیٰ کا نام اُن علاقوں میں بلند کر و۔اگر ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں رکھا ہے تو آخر کسی مصلحت اور بھلائی کے لئے رکھا ہے۔آخر دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہے۔یا تو یہ فیصلہ کر لو کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ ہمارا دشمن ہے اور یا پھر یہ سمجھ لو کہ اسلام کی خدمت کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں ہندوستان میں رکھا ہے۔ہندوستان میں 25 فیصدی مسلمان ہیں۔اور مشرقی پنجاب میں گو بہت سے مسلمان ہلاک ہو چکے ہیں اور بہت سے بھاگ آئے ہیں مگر اب بھی 34 فیصدی مسلمان مشرقی پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔اور 34 فیصدی مسلمانوں کے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔آخر وہ ہندوستان کے شہری ہیں اور وہی حقوق انہیں قانونا حاصل ہیں جو سکھوں یا ہندوؤں کو۔پھر اگر مسلمان نئی نسلیں پیدا کریں اور برتھ کنٹرول کی لغویت کو ترک کر دیں تو چند سالوں میں ہی وہ مشرقی پنجاب میں بھی پہلی نسبت پر آ سکتے ہیں۔لوگ کہا کرتے تھے کہ تعد دازدواج کا حکم محض عربوں کے لئے تھا موجودہ زمانے میں اس پر کون عمل کر سکتا ہے۔مگر اب وقت آگیا ہے جب اللہ تعالیٰ کی ایک ایک بات اور اُس کے ایک ایک حکم کی صداقت دنیا پر واضح ہو۔آج ہندوستان میں مسلمانوں کی نجات اسی بات سے وابستہ ہے کہ وہ زیادہ شادیاں کریں اور اپنی نسلوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھا ئیں۔اگر ایک نسل کے مسلمان اس بات کو قبول کر لیں کہ ہم اگر تباہ ہوتے ہیں تو بے شک ہو جا ئیں مگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کے ذریعہ اسلام کو پھر اس ملک میں زندہ کر دیں گے تو چند سالوں میں ہی کا یا پلٹ سکتی ہے۔اگر انہیں بیویاں تلاش کرنے کے لئے اچھوت اور ادنی اقوام کی طرف بھی متوجہ ہونا پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں اور اپنے آپ کو تباہ کر کے بھی مسلمانوں کو بڑھانے کی کوشش کریں۔اگر اس طرح مسلمان شادیوں کے ذریعہ اپنی تعداد کو بڑھانا چاہیں تو تھوڑے عرصہ میں ہی ان کی تعداد دوگنی