خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 285

خطبات محمود 285 سال 1947ء و, ہیں جن پر تبا ہی آئی ہے۔میں اُن سے بھی کہتا ہوں کہ تمہارے اندر اگر اس وقت بھی خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا نہیں ہوئی تو اور کب پیدا ہو گی۔تمہارے گھر برباد ہو گئے ، تمہارے اموال ٹوٹے گئے ، تمہاری زمینیں اور جانور چھین لئے گئے اور بعض جگہ تمہاری عورتیں بھی لوگ زبردستی لے گئے اس سے بڑھ کر اور کونسی قیامت ہے جو تم پر آئے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا یہ مت سمجھو کہ یورپ اور امریکہ وغیرہ میں زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے بلکہ میں تو دیکھتا ہوں کہ اُن سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔‘3 تم ان الفاظ کو پڑھتے تھے تو بڑے آرام اور اطمینان سے اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے کہہ دیتے تھے کہ یہ جو بخار پھیلا ہوا ہے اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ہے۔یا فلاں جگہ ہیضہ سے پانچ سو آدمی مر گیا ہے اُس سے ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔حالانکہ اُن بخاروں اور ہمیضوں سے اس پیشگوئی کا کیا تعلق تھا۔یہ وہ دن تھے جن کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خبر دی تھی اور جن میں اتنی بڑی تباہی ہوئی ہے کہ جنگِ عظیم کے سات سالوں میں اتنا آدمی نہیں مارا گیا جتنا صرف ایک سال میں مارا گیا ہے۔صرف مشرقی اور مغربی پنجاب میں ہندو، مسلمان اور سکھ کی موت پانچ چھ لاکھ کے قریب ہوئی ہے حالانکہ جنگ عظیم میں صرف دو لاکھ تینتالیس ہزار آدمی مرے تھے اور وہ بھی چھ سات سال میں۔مگر یہ پانچ چھ لاکھ چھ ماہ کے عرصہ میں ختم ہو گیا۔صرف دتی میں چوبیس گھنٹہ کے اندر کہتے ہیں آٹھ دس ہزار آدمی مارے گئے۔جن میں سے چھ سات ہزار مسلمان تھے اور ڈیڑھ دو ہزار ہندو سکھ۔اس قسم کی تباہی اور بربادی کی دنیا کی تاریخ میں تمہیں کوئی مثال نہیں مل سکتی۔اور اتنی آبادیوں کا تبادلہ بھی دنیا میں اور کسی جگہ نظر نہیں آتا۔اتنے بڑے ابتلاء کو دیکھ کر بھی کیا تمہاری سمجھ میں نہیں آتا کہ خدا تعالیٰ کی دنیا میں ایک نیک تغیر پیدا کرنا چاہتا ہے؟ خدا تعالیٰ دنیا میں ایسے آدمی پیدا کرنا چاہتا ہے جو صرف خدا کے ہوں اور دنیا کا عشق اُن کے دلوں میں نہ ہو۔مگر اب بھی تمہارے اندر کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔میں سنتا ہوں کہ تم نے اپنی مصیبت اور سفروں کے ایام میں نمازوں میں کوتاہی کی یا نمازیں ادا کر نا تم بھول گئے۔یہ تو میں نہیں مان سکتا کہ چھوٹے سے چھوٹا مومن بھی کوئی نماز چھوڑ دے۔میں وہی کہ سکتا ہوں کہ تم نماز بھول گئے یا تم نے بے وقت نماز پڑھ لی۔اسی طرح تم میں سے بعض نے بزدلی بھی دکھائی اور تم یہ کہہ کر اپنے گھروں سے نکل آئے