خطبات محمود (جلد 28) — Page 286
سال 1947ء خطبات محمود 286 کہ جب ارد گرد کے لوگ جاتے ہیں تو ہم یہاں کیوں ٹھہر ہیں۔حالانکہ یہ وہ وقت ہے جب اس بات کی شدید ضرورت تھی کہ اسلام کی عزت کو قائم کیا جاتا۔ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ مسلمان مشرقی پنجاب میں کہتے ہیں کہ مارا گیا ہے۔مگر ان میں سے چھیانوے، ستانوے ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ بھاگتے ہوئے مارا گیا ہے۔اگر اتنا آدمی لڑائی کرتے ہوئے مارا جاتا تو یہ لوگ تو گاؤں میں تھے اور حملہ کرنے والے باہر کے تھے۔اگر یہ لوگ ڈیڑھ لاکھ مارے گئے تھے تو وہ یقینا سات آٹھ لاکھ کی تعداد میں مارے جاتے۔کیونکہ گھر میں بیٹھ کر ایک آدمی باہر کے سات آٹھ آدمی آسانی کے تین ساتھ مار سکتا ہے۔اور اگر سات آٹھ لاکھ حملہ کرنے والا مارا جاتا تو یقیناً اب تک امن ہو چکا ہوتا۔پھر تم نے عظیم الشان حماقت یہ کی کہ گھروں سے نکلتے وقت سارا مال تم اُن کے سپرد کر ، آئے۔حالانکہ اس سے زیادہ حماقت اور بیوقوفی کی اور کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ اپنا مکان اور اپنا ہے رو پید اور اپنی جائیداد دشمن کے حوالے کر دی جائے۔ہمیں نکلنے سے پہلے اپنے گھر کی ایک ایک چیز کو جلا کر راکھ کر دینا چاہیئے تھا۔تمہارا فرض تھا کہ اگر سرسوں کا تیل مل جاتا تو سرسوں کا تیل ڈالا کر اور اگر مٹی کا تیل مل جاتا تو مٹی کا تیل ڈال کر اپنے گھروں کا آخری تنکا تک جلا دیتے تا کہ اگر دشمن جلے ہوئے اور خالی گھروں میں داخل ہوتا تو پندرہ بیس دنوں میں ہی اُسے فکر پڑ جاتی اور وہ ی اُن مقامات کو خالی کر دیتا۔مگر اب تو تم نے لاکھوں من غلہ ، لاکھوں روپیہ نقد ، لاکھوں روپیہ کا جی زیور ، اور لاکھوں روپیہ کا کپڑا دشمن کو اپنے ہاتھ سے دے دیا اور اس طرح اُس کے سال بھر کے گزارہ کا انتظام کر دیا۔اب اُسے کسی کمائی کی ضرورت نہیں کیونکہ تم نے اُسے ہر قسم کی ضروریات خود بخود مہیا کر دی ہیں۔گویا تم نے اُن کو سال بھر کی تنخواہیں ادا کی ہیں اس لئے کہ وہ مسلمانوں کو بر باد کریں۔حالانکہ جب تم اپنے گھروں سے نکلے تھے تو تمہارا کام تھا کہ تم اپنے ہاتھ سے اپنے گھروں کو آگ لگا دیتے اور ایک ایک چیز کو جلا کر راکھ کر دیتے۔کیا ایسے موقع پر باہر سے آکر کسی کے سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے یا انسانی دماغ خود بخود تدابیر سوچ لیا کرتا ہے؟ اول تو تمہیں اپنے گھروں سے نکلنا نہیں چاہیے تھا۔اور اگر تم نکلے تھے تو تم ہر چیز کو جلا کر اپنے ہاتھ سے راکھ کر دیتے تا کہ دشمن اگر اندر جاتا تو وہ غلے کا ایک دانہ نہ پاتا۔دشمن اگر اندر جاتا تو اُسے کپڑے کی ایک دھجی تک نہ ملتی۔دشمن اگر اندر جاتا تو اُسے کوئی قیمتی چیز نہ ملتی۔پھر اگر تم اپنے شخص۔