خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 284

خطبات محمود 284 سال 1947ء میں تم سب سے پہلے اپنی چھاتی پر ہاتھ مار کر کہتے ہو کہ ہم مومن ہیں۔پھر جب اس جگہ مرکز کا ایک حصہ آچکا تھا آپ لوگوں کو اسے خدا تعالیٰ کا فضل سمجھنا چاہیئے تھا۔لیکن آپ لوگوں نے کوئی توجہ ہی نہیں کی۔چاہیئے تھا کہ سینکڑوں آدمی اپنے آپ کو خدمات کے لئے پیش کر دیتے۔اور اگر اُن کی ملازمتیں بھی جاتیں تو اُس کی پروا نہ کرتے۔جیسے کراچی کے دوستوں نے نمونہ دکھایا۔اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم قادیان جائیں گے۔اور چونکہ وہاں سرکاری محکموں میں احمدی زیادہ ہیں دفا تر والوں نے سمجھا کہ اگر سب احمدی چلے گئے تو کام بند ہو جائے گا۔اس لئے اُنہوں نے چھٹی دینے سے انکار کر دیا۔اس پر کئی احمدیوں نے اپنے استعفے نکال کر رکھ دیئے کہ اگر یہ بات ہے تو ہم اپنی ملازمت سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں۔ایک اخبار جو احمدیت کا شدید ترین دشمن تھا میں نے خود اُس کا ایک تراشہ پڑھا ہے جس میں وہ اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ہوتا ہے ایمان۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اخلاص کا نمونہ دکھایا۔یہ وہ ہیں جن کا عزت سے نام لیا جائے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا احمدیت کی تاریخ میں نام لکھا جائے گا۔مگر غافلوں اور بے پرواہوں کا نام نہیں لکھا جائے گا۔تم کہہ سکتے ہو کہ ہمیں کسی نے کہا نہیں۔مگر میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اگر تمہارا بچہ بیمار ہو تو کیا کوئی شخص تم سے کہا کرتا ہے کہ تم اُس کا علاج کرو؟ آخر دین کیا میرا لگتا ہے تمہارا نہیں لگتا ؟ اگر احمدیت میری چیز ہوتی تو پھر بھی میں سوال کرنے کی ذلت برداشت کر لیتا اور تمہارے پاس جاتا اور کہتا کہ میری مدد کرو۔گو خدا نے مجھے ہمیشہ اپنے متعلق دوسرے سے سوال کرنے سے بچا رکھا ہے اور میں نے آج تک کبھی کسی سے سوال نہیں کیا۔مگر یہ چیز تو وہ ہے جو صرف میری نہیں بلکہ تمہاری بھی ہے اور اس لحاظ سے ہر احمدی کا فرض تھا کہ وہ اپنی خدمات پیش کرتا۔ہر احمدی کا فرض تھا کہ وہ اپنا سارا وقت یا اپنے وقت کا کچھ حصہ دیتا۔ہرا حمدی کا فرض تھا کہ اگر خدا کا خلیفہ اُس کے گھر میں آیا تھا تو زیادہ نہیں کم سے کم ایک نماز تو اُس کے پیچھے پڑھتا۔مگر تم نے ان کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی نہیں کیا۔اب تم خود ہی اپنے ایمان کی قیمت کا اندازہ لگا لو۔اور سوچو کہ تمہارا کیا ایمان ہے؟ اس کی کیا قیمت ہے؟ اور کیا ایک پیسے پر بھی کوئی اس کو خریدنے کے لئے تیار ہوسکتا ہے؟ تم میں سے بہت سے اس وقت وہ بھی بیٹھے ہیں جو باہر سے آئے ہیں اور اُن علاقوں کے