خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 270

سال 1947ء 270 خطبات محمود افراد کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔ اس وقت قادیان کی آبادی میں تین ہزار کے قریب نوجوان ہیں ۔ اگر ان میں سے نصف یعنی پندرہ سو بھی دشمن کے مقابلہ میں نکل کھڑے ہوں تو جس نسبت سے صحابہ نے کفار کا مقابلہ کیا تھا اُس نسبت سے یہ پندرہ سو آدمی دشمن کی ڈیڑھ لاکھ فوج کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ ہاں اس کے لئے مضبوط ایمان کی ضرورت ہے ۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو۔ اگر تم اپنے ایمان مضبوط کر لو گے تو مردانگی اور جرات تمہارے اندر خود ہی آجائے گی ۔ اور ہر میدان مقابلہ میں فتح تمہارے قدم چومے گی ۔ لیکن ساتھ ہی اس امر کو بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہ اگر خدا تعالیٰ تمہیں فتح نصیب کرے اور وہ اپنے وعدوں کے مطابق ضرور تمہیں فتح دے گا تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہر ہندو کی عورت تمہاری ماں اور بہن ہے اور ہر سکھ کی عورت تمہاری ماں اور بہن ہے ۔ یہی وہ پاکیزگی کا بلند معیار ہے جس پر اسلام تمہیں کھڑا کرنا چاہتا ہے ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ کے فضل تم پر نازل ہونے شروع ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کہے گا کہ میرے بندے باوجود مشتعل ہونے کے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے رحم اور انصاف پر قائم ہیں اور میری تعلیم سے انہوں نے منہ نہیں موڑا۔ میں کیوں ان کی طرف سے منہ موڑ لوں ۔ لیکن اگر تم رحم اور انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری نصرت سے ہاتھ کھینچ لے گا اور کہے گا کہ جب ان کو میری تعلیم اور میرے احکام کی پروا نہیں تو مجھے ان کی تائید کی کیا ضرورت ہے۔ دوسری بات جس کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ان ایام میں باہر سے بہت سے ل سے لوگ قادیان آ رہے ہیں ۔ اُن کے پاس نہ کھانے کا سامان ہوتا ہے نہ پینے کا ۔ جو لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کی تھوڑی بہت چیزیں لے آئے ہیں ان کی تعداد بہت ہی قلیل ہے اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان سب کے خورونوش کا انتظام اس وقت ہمارے ذمہ ہے ۔ مگر اس ذمہ داری کی ادائیگی کوئی آسان کام نہیں ۔ جب قادیان میں ریل آئی تھی اور گڑوں اور موٹروں کی آمد و رفت تھی تو باہر سے سامان منگوا لیا جاتا تھا ۔ مگر یہ وقت ایسا ہے کہ نہ تو ریل ہی قادیان تک آتی ہے اور نہ ذرائع آمد و رفت محفوظ ہیں ۔ اس لئے باہر سے آنے والوں کے لئے بھی اور قادیان کی آبادی کے لئے بھی ہمیں بہر حال قادیان سے ہی خور و نوش کا انتظام کرنا پڑ رہا ہے ۔ ی کا