خطبات محمود (جلد 28) — Page 233
خطبات محمود 233 سال 1947ء میں ابتدا کریں گے اُنہیں مخالف فریق اُٹھا کر پرے پھینک دے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر مسلمانوں پر حملہ کرنے میں ابتدا کی۔مگر وہ کامیاب نہ ہوئے اور مسلمانوں نے انہیں اٹھا کر پرے پھینک دیا۔پھر دونوں فریق کی آپس میں لڑائی شروع ہو گئی۔اور جیسا کہ خواب میں دکھایا گیا تھا آگ کے شعلوں سے لڑائی ہوئی۔اور یہ نظارہ لاہور، امرتسر اور کئی دوسری جگہوں میں دیکھنے میں آیا۔اور آگ کے ساتھ ایک دوسرے کو اس قدر نقصان پہنچایا گیا کہ اس کی کوئی مثال ہی نہیں مل سکتی۔ایک انگریزی اخبار کا ایک انگریز نامہ نگار جس نے لاہور اور امرتسر کے تباہ شدہ علاقوں کا دورہ کیا تھا اُس نے بیان کیا کہ پانچ سال کی جرمنوں کی وحشیانہ گولہ باری کے نتیجہ میں جتنے مکانات لندن میں تباہ ہوئے تھے اُس سے زیادہ مکانات لاہور اور امرتسر کے دو تین ماہ کے فسادات میں تباہ ہو گئے ہیں۔گویا پانچ سال کے لمبے عرصہ میں جتنا ظلم جرمنوں نے انگلینڈ کے سب سے بڑے شہر لندن پر کیا تھا اُس سے زیادہ ظلم دو تین ماہ کے قلیل عرصہ میں لا ہور اور امرتسر میں ہوا۔ان فسادات کی ابتدا 31 مارچ سے ہوئی۔گویا ان فسادات سے چھ یا سات دن پیشتر خدا تعالیٰ نے مجھے بتا دیا تھا کہ اب عنقریب آگ کی لڑائی شروع ہونے والی ہے۔چنانچہ یہ لڑائی کی شروع ہوئی اور آج تک جاری ہے اور کئی جگہوں سے نقصانات اور فسادات کی خبریں آ رہی ہیں۔پھر یہ آگ کی لڑائی اتنی شدت کے ساتھ ہوئی کہ بعض شہروں میں تو محلوں کے محلے خالی ہو چکے ہیں۔اور جہاں بڑی بڑی عمارتیں تھیں وہاں اب ملبہ کے ڈھیروں کے سوا کچھ نہیں رہا۔لاہور کے متعلق ایک خبر ملی ہے کہ شاہ عالمی دروازہ کے اندر دو دو سو گز تک بازار کے دو رویہ مکانات بالکل بھسم ہو چکے ہیں۔گویا صرف ایک جگہ ایک بڑے گاؤں یا ایک چھوٹے قصبہ کے برابر مکانات تباہ ہوئے ہیں۔پھر ان فسادات میں ایک ایک محلہ میں کروڑوں کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا ہے۔بعض جگہیں تو ان شہروں میں تباہی کا عجیب منظر پیش کرتی ہیں۔اور کوئی شخص انہیں دیکھ کر پہچان ہی نہیں سکتا کہ یہ وہی جگہیں ہیں جہاں چار چار پانچ پانچ منزلہ مکانات ہوا کرتے تھے۔پھر ان فسادات کے دوران میں ایسے ایسے دردناک اور جگر پاش واقعات ہوئے ہیں کہ اُن کو سُن کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ایسے ہیں کہ سنگدل سے سنگدل انسان بھی ان کو سن کر اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکتا۔