خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 232

خطبات محمود 232 سال 1947ء میں نے دیکھا کہ دوزخ میں بچھو ہیں جو چھ سات گز کے قریب لمبے ہیں۔پہلے مجھے صرف دو بچھو نظر آئے جو علاوہ سات آٹھ گز لمبا ہونے کے بہت موٹے بھی تھے جیسے کہ ہوائی جہاز ہوتا ہے۔عام طور پر تو بچھو ڈیڑھ یا دو انچ لمبے ہوتے ہیں مگر وہ بچھو چھ سات گز لمبے تھے۔جیسے ایک اچھی بڑی کشتی ہوتی ہے جس میں کہ اٹھارہ یا بیس آدمی سوار ہو سکیں۔ان دونوں بڑے بچھوؤں میں سے ایک نے دوسرے بچھو پر حملہ کر دیا۔مگر اُس نے آگے سے حملہ آور بچھو کو ایسا ڈنگ مارا کہ اُسے پرے پھینک دیا۔اس کے بعد وہ دونوں بچھو ایک دوسرے پر حملہ کرنے لگے اور دونوں نے آگ کے شعلوں کے ساتھ جو اُن کے منہ سے نکلتے تھے لڑائی شروع کر دی۔اس کے بعد کچھ اور بچھو بھی پیدا ہو گئے۔اُن کے قد بھی بڑے بڑے تھے گو پہلوں سے چھوٹے۔اور اُنہوں نے بھی آگ کے شعلوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی۔ان شعلوں کا نظارہ نہایت ہیبت ناک تھا۔اب دیکھو بعینہ یہی نقشہ گزشتہ فسادات میں دیکھنے میں آیا۔پہلے ہندوؤں اور سکھوں نے لاہور میں جلسہ کیا اور اُس جلسے میں انہوں نے بڑے زور کے ساتھ اعلان کیا کہ ہم مسلمانوں کو تلوار کے زور سے سیدھا کر دیں گے۔یہاں تک کہ ایک لیڈر کے متعلق میں نے ہندو اخباروں میں پڑھا کہ تقریر کرتے ہوئے جوش سے دروازہ کے پاس آ گیا اور اپنی تلوار ہوا میں گھما کر کہا ہے اس تلوار کے ساتھ ہم مسلمانوں کو سیدھا کر دیں گے۔گویا لڑائی کی ذہنیت کو اللہ تعالیٰ نے بچھو سے مشابہت دی۔بچھو کے متعلق مشہور ہے کہ نیش عقرب نه از پیئے کین است مقتضائے طبیعتش این یعنی یہ جانور حملہ کرتے وقت کوئی وجہ نہیں دیکھتے بلکہ بلا وجہ حملہ کرتے ہیں۔اور کوئی بھی ان جی کے آگے آجائے اُسے ڈنگ مار دیتے ہیں۔پس خواب میں بچھو دکھا کر اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ ملک کے ایک طبقہ کے لوگوں کی ذہنیت ایسی ہو چکی ہے کہ وہ بلا وجہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔اور وہ لوگ نقصان پہنچانے کے لئے کوئی وجہ اور دلیل مد نظر نہیں رکھیں گے بلکہ بلا وجہ ہی وہ بچھو کی طرح ڈنگ ماریں گے۔اور ایسے لوگ ہندوؤں میں بھی ہیں اور مسلمانوں میں بھی ہیں۔پھر خدا تعالیٰ نے رویا میں اس طرف بھی اشارہ کیا تھا کہ جو لوگ حملہ