خطبات محمود (جلد 28) — Page 234
خطبات محمود 234 سال 1947ء مجھے پرسوں ہی کسی دوست نے بتایا کہ جب آگئیں لگتی تھیں تو جن کے گھروں کو آگئیں لگائی جاتی تھیں اُن کے بچے اور عورتیں ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جاتے تھے اور نہایت عاجزانہ طور پر آگ لگانے والوں سے کہتے تھے ہم تو پانچ چھ سو سال سے یہاں رہ رہے ہیں ہمیں کیوں بے در اور بے گھر کرتے ہو۔مگر اُس وقت غصہ کی وجہ سے کسی کو اِن درد بھرے الفاظ کی پروا نہ ہوتی تھی۔اور یہ صرف اس لئے ہوتا رہا کہ خدائی فیصلہ صادر ہو چکا تھا کہ آگ کی لڑائی لڑی جائے۔اور یہ ایک اٹل فیصلہ تھا جو بچھوؤں کی سی ذہنیت والوں کے لئے مقدر ہو چکا تھا۔پس آگ کی لڑائی ہوئی اور ایسی ہوئی کہ اس نے بہت سے شہروں کو بھسم کر کے رکھ دیا۔محلوں کے محلے اور گاؤں کے گاؤں تباہ و ویران ہو گئے۔اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئی نہایت عظیم الشان طور پر پوری ہوئی اور مومنوں کے ایمان میں زیادتی کا موجب ہوئی۔مگر جہاں یہ پیشگوئی پوری ہو کر ہمارے لئے از دیاد ایمان کا موجب ہوئی ہے وہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان فسادات اور فتنوں کو دور کرنے کا کام بھی ہماری جماعت کے سپرد ہے۔جیسا کہ خواب میں مجھے ایک بچھو دکھایا گیا جس نے پلٹا کھا کر آدمی کی شکل اختیار کر لی اور اُس نے اُس جگہ کی طرف بڑھنا شروع کیا جہاں میں بیٹھا تھا۔اس کے بعد مجھے پیچھے سے آواز آئی کہ قرآن پڑھو، قرآن پڑھو۔اور اس آواز کے آتے ہی میں نے قرآن شریف پڑھنا شروع کر دیا اور ایسی بلند اور سریلی آواز میں پڑھا کہ میں نے خود بھی محسوس کیا کہ میری آواز بہت بلند اور سریلی ہے اور میں جس طرف سے گزرتا ہوں میری آواز پہاڑوں اور میدانوں میں گونج پیدا کر دیتی ہے۔اس میں خدا تعالیٰ نے بتایا تھا کہ بچھو صفت لوگوں کی اصلاح کا سوائے قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے اور کوئی علاج نہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ ہماری جماعت کے کمزور لوگ فسادات اور تباہی کے ان واقعات کو مزے لے لے کر سنتے ہیں۔ہندوؤں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی کی خبروں کے متعلق تو نہیں۔لیکن جب وہ یہ سنتے ہیں کہ کسی جگہ مسلمانوں نے آگ لگائی ہے تو اس خبر پر بعض کمزور احمدیوں کے چہروں پر بھی بشاشت پیدا ہوتی جاتی ہے۔حالانکہ ایسی خبروں کو سن کر خوش ہونا درندگی اور وحشت ہے۔اور یہ خوش ہونے کا مقام نہیں بلکہ رونے کا مقام ہے۔تم ذرا اپنے ہی گھروں کو دیکھو کہ جب بارش کے ایام میں تمہارے