خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 220

سال 1947ء 220 خطبات محمود نہیں کھلی ہوں گی اور اُسے پسینہ بھی نہیں آیا ہو گا کہ پولیس اُسے آگھیرے گی اور کہے گی کہ آپ غیر ملک میں داخل ہو گئے ہیں، پاسپورٹ دکھائیں ۔ اس قسم کے حالات ہر انسان کے لئے مشکلات کا باعث بنیں گے ۔ اور پھر ہمارے لئے تو تبلیغ کے رستے میں بہت زیادہ مشکلات پیدا ہو جائیں گی ۔ در حقیقت یہ تقسیم ایسے رنگ میں ہونی چاہیئے کہ ملک کے باشندوں کے لئے آرام دہ اور نفع مند ثابت ہو۔ لیکن جیسا کہ میں نے اس سے قبل کئی دفعہ بتایا ہے ان باتوں میں ہمارا کوئی دخل نہیں ۔ کیونکہ ہم تو ایک اقلیت ہیں اور فیصلہ اکثریت نے کرنا ہے ۔ ہم تو نصیحت کے طور پر ایک بات بیان کر دیتے ہیں ورنہ ہم اس بات کو چلانے کے لئے اپنا وقت اور مال استعمال نہیں کرتے ۔ ہم جو بات سیاسی مشورہ کے طور پر بیان کرتے ہیں وہ محض لوگوں کی بہتری اور بہبودی کے لئے بیان کرتے ہیں ورنہ سیاسی طور پر ہم اسے جاری نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ اگر ہماری جماعت سیاسی کاموں میں لگ جائے تو دین کا خانہ خالی رہ جائے اور مذہب کا پہلو کمزور ہو جائے ۔ ان سے حالات میں ہمارے لئے صرف ایک ہی صورت رہ جاتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ دن رات دعائیں کریں۔ جیسا کہ آج تک ہماری جماعت ایسے نازک موقعوں پر ہمیشہ دعائیں کرتی رہی ہے اور اکثر اوقات اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کی دعاؤں کو قبول فرمایا ہے ۔ یہ موقع بھی نہایت ہی نازک مواقع میں سے ہے۔ اِس لئے تمام جماعت کو التزام کے ساتھ یہ دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ان نا قابلِ برداشت فتنوں سے بچائے ۔ عام طور پر ہمارے ملک کے لوگ جغرافیہ سے ناواقف ہیں اور اس وجہ سے وہ ایسی باتوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے ۔ اب بھی جو صورت حالات پیدا ہونے والی ہے آپ لوگ اُس کا ندازہ نہیں لگا سکتے ۔ کیونکہ آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے نقشے نہیں ۔ لیکن میری آنکھوں کے سامنے سب نقشے ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ کس میدان میں لڑائی لڑی جا رہی ہے ۔ اگر اس قسم کے خطرناک اقدام کئے گئے تو اس سے دونوں فریق ہی نقصان اٹھائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے بٹوارے سے زیادہ مصیبت ان حد بندیوں کی وجہ سے پیدا ہو گی ۔ اور ملک کی آزادی پہلی غلامی سے بھی بدتر ہو گی ۔ اتحاد اور بٹوارے کا عوام الناس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ وہ تو محکوم ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی حاکم کے ماتحت اُن کو رہنا ہی پڑتا ہے۔ اگر ایک انگریز ڈپٹی کمشنر