خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 221

خطبات محمود 221 سال 1947ء ہوگا تو اُس کے سامنے بھی اُن کو سر جھکا کر چلنا پڑے گا اور اگر کوئی ہندوستانی ڈپٹی کمشنر ہو گا تو اس کے سامنے بھی اُن کو سر جھکا کر چلنا پڑے گا۔اس لحاظ سے ان میں کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا کہ ہندوستانی حاکم ہے یا انگریز حاکم ہے۔پس حکومتوں کی تبدیلی عوام الناس پر اتنی اثر انداز نہیں ہوتی جتنی کہ سرحدوں کی تبدیلی اُن پر اثر انداز ہوتی ہے۔اس قسم کے بٹوارے کی مثال ایسی ہی وی ہے۔جیسا کہ دو ہاتھوں کی اُنگلیوں کو آپس میں پیوست کر دیا جائے یا دو کنگھیوں کے پنجوں کو آپس کی میں پیوست کر دیا جائے۔اور اس حالت میں ہر میل دو میل کے بعد ایک سفر کرنیوالے سے پاسپورٹ مانگا جائے گا کہ آپ اب غیر علاقہ میں داخل ہوئے ہیں ، اس ملک کے قواعد اس قسم کے ہیں آپ ان کی پابندی کریں۔یہ کیسی خطر ناک صورتِ حالات ہے۔میرے نزدیک تو پہلے تمام سوالوں سے یہ سوال زیادہ خطرناک ہے اور اس قسم کے حالات سب قوموں کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔اس وقت تو جوش میں آکر سب کہتے ہیں کہ ہم زمین کا ایک انچ ٹکڑا بھی وصول کئے بغیر نہیں رہیں گے۔لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو جو صورت اب پیدا ہونے والی ہے اُس کی نہ سکھ تاب لا سکیں گے، نہ ہند و تاب لا سکیں گے۔نہ مسلمان تاب لاسکیں گے اور نہ ہی اچھوت تاب لاسکیں گے ہر ایک کے لئے مصیبتوں کا دروازہ کھل جائے گا۔پس ان تمام حالا۔کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرنی چاہئیں۔بلکہ تمام بالغ مرد اور عورتوں کو تہجد کے لئے اٹھنا چاہیئے۔اور اگر زیادہ نہیں تو دو نفل ہی پڑھ لینے چاہئیں۔اور جو مرد اور عورتیں اس سے پہلے تہجد نہیں پڑھتے اُنہیں با قاعدگی کے ساتھ تہجد پڑھنی شروع کر دینی چاہیئے اور نہایت تضرع اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان مشکلات کا حل پیدا کرے اور یہ مصیبت ہمارے ملک کے لئے باعث رحمت بن جائے۔سینکڑوں سالوں کی غلامی کے بعد آزادی کی نعمت ہمارے ملک کو عطا کی جا رہی ہے۔ایسا ت نہ ہو کہ بجائے آزادی سے فائدہ اٹھانے کے ہمارا ملک نئی نئی مصیبتوں میں مبتلا ہو جائے۔انگریزی میں ایک ضرب المثل ہے کہ کڑاہی سے گرا اور چولہے میں پڑا۔2 اگر ملک کو اس قسم کی آزادی ملنے والی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بچائے کہ ایک انسان آزادانہ طور پر سانس بھی نہ لے سکے اور وہ گھبرا کر یہ کہہ اٹھے کہ اس آزادی سے تو وہ پہلی غلامی ہی ہزار درجہ بہتر تھی۔