خطبات محمود (جلد 28) — Page 212
خطبات محمود 212 سال 1947ء پھر کہا لیکھرام کی ان دیدہ دلیریوں کو دیکھ کر ایک دبلا پتلا انسان جو کہ ہر وقت بیمار رہتا ہے اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے مقابلہ کے لئے نکلا۔اور اس نے لیکھرام پر ایسے زور کے ساتھ حملہ کیا کہ اس بھڑولے جیہا آدمی نوں چک کے ایں مار یا کہ اس دا نام و نشان وی مانی نہ رہیا۔یعنی اسلام کے اس دبلے پتلے سپاہی نے ہندوؤں کے موٹے کیئے جیسے پہلوان کو یوں اٹھا کر زمین پر گرایا کہ اُس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔گویا اُنہوں نے اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے اس روحانی مقابلے کو ایک جسمانی مقابلہ سے تشبیہہ دی اور ایسے مزے کے ساتھ بیان کیا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ امیر حمزہ کی داستان بیان ہو رہی ہے۔ان کے کلام کی فصاحت دلوں کو موہ لیتی تھی۔حضرت مسیح موعود کا لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی“ انہوں نے ہی لاہور میں پڑھا تھا۔لیکچر سننے والوں نے کہا کہ بے شک لیکچر لکھنے والے کی خوبیوں اور علمی قابلیت کا کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن وہ شخص جس نے یہ لیکچر پڑھا وہ بھی بہت قابل تعریف انسان تھا۔اس کی آواز ایسی شیریں تھی کہ سامعین مسحور ہوئے جاتے تھے۔جب مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے تو ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت گھبراہٹ ہوئی کیونکہ آپ نے آریہ سماج کے جلسہ کے لئے جو کہ لاہور میں منعقد ہوا تھا ایک لیکچر تیار کیا۔آپ کو یہ فکر لاحق ہوا کہ اب اسے سنائے گا کون؟ پہلے آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت خلیفہ اول جا کر یہ لیکچر سنا ئیں۔جب یہ لیکچر چھپ گیا تو آپ نے مسجد میں حضرت خلیفہ اول کو فرمایا کہ آپ یہ مضمون پڑھ کر سنا ئیں۔حضرت خلیفہ اول نے مضمون پڑھنا شروع کیا لیکن ابھی آپ نے چار پانچ منٹ ہی مضمون پڑھا ہوگا کہ آپ نے فرمایا مولوی صاحب آپ رہنے دیں۔اب کوئی دوسرا آدمی پڑھے۔اس کے بعد مرزا یعقوب بیگ صاحب نے پڑھنا شروع کیا مگر ان کو بھی تھوڑی دیر کے بعد روک دیا۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جی کو آپ نے پڑھنے کے لئے فرمایا۔شیخ صاحب نے ایک آدھ منٹ تو بہت بلند آواز سے پڑھا اور یہ خیال کیا گیا کہ وہ پڑھ لیں گے لیکن تھوڑی دیر میں ہی اُن کا گلا بھتر اگیا اور آواز بیٹھ گئی۔مجھے یاد ہے اس موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ تو بڑی مشکل ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب خوب پڑھا کرتے تھے۔اب تو کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آتا۔آخر حضرت خلیفہ اول کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ آپ اس لیکچر کو پڑھ کر سنا ئیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول اور آپ کے بعد غالبا مرزا یعقوب بیگ