خطبات محمود (جلد 28) — Page 211
خطبات محمود 211 سال 1947ء جائیں اور ان کے دلائل معلوم کئے جائیں۔مولوی بشیر احمد صاحب نے کہا کہ ہم اُلٹ کتابیں پڑھیں۔مجھے چونکہ مرزا صاحب سے حُسنِ ظنی ہے اس لئے میں آپ کی مخالف کتابیں پڑھوں گا۔اور آپ مرزا صاحب کے خلاف ہیں اس لئے آپ مرزا صاحب کی کتابیں پڑھیں۔اس کی طرح ہمیں دونوں طرفوں کے دلائل سے واقفیت ہو جائیگی۔اس بحث کی تیاری کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے ی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنی شروع کیں اور مولوی بشیر صاحب نے آپ کے خلاف جو کتب لکھی گئی تھیں اُن کا مطالعہ شروع کیا۔چنانچہ جب مباحثہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ مولوی بشیر صاحب بھو پالوی سختی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کرتے اور میں سختی سے آپ کی تائید کرتا۔آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ میں نے بیعت کر لی اور مولوی بشیر صاحب بھو پالوی احمدیت سے بہت دور چلے گئے۔تیسرے وجود اُس زمانہ میں مولوی عبد الکریم صاحب تھے۔جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے اُنہوں نے حضرت خلیفہ اول سے کچھ علوم پڑھے تھے لیکن ان کی خداداد ذہانت اور ذکاوت ایسی تیز تھی کہ وہ مضامین اور معارف کو یوں پکڑتے تھے جیسے باز چڑیا کو پکڑتا ہے۔اور جس بات کو عام آدمی گھنٹہ بھر میں سمجھتا ہے وہ اسے سیکنڈوں میں سمجھ جاتے تھے۔وہ معارف جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوتے تھے اور وہ دعویٰ جو کہ آپ نے کچھ عرصہ کے بعد کرنا ہوتا تھا وہ کچھ دن پہلے ہی ان کی زبان پر جاری ہو جاتا تھا۔اور پھر بولنے میں انہیں ایسی مہارت تھی اور ان کے کلام میں اتنی فصاحت تھی کہ ان کی تقریر سننے والا آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔آواز اتنی سریلی تھی کہ جب آپ قراءت کرتے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی حمد گا رہے ہیں۔آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی جماعت سے اتنی شدید محبت تھی کہ اُس محبت کا اندازہ اُس شخص کے سوا کوئی نہیں لگا سکتا جس نے آپ کو دیکھا اور آپ سے باتیں کی ہوں۔جب آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ کے جسم کے ذرے ذرے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت داخل ہو گئی ہے۔لیکھرام کے قتل کے واقعہ کے متعلق ایک دفعہ وہ مسجد کے محراب میں کھڑے تقریر کر رہے تھے۔میں اُس وقت چھوٹا تھا لیکن وہ نظارہ مجھے اب تک یاد ہے۔اُن کے ہاتھ میں ایک بڑا سوٹا تھا جسے پنجابی میں کھونڈ کہتے ہیں۔اُنہوں نے لیکھرام کی شوخیوں اور دیدہ دلیریوں کا ذکر کیا اور