خطبات محمود (جلد 28) — Page 213
خطبات محمود 213 سال 1947ء وم نے مضمون پڑھا۔لیکن لیکچر کا وہ اثر نہ ہوا جو مولوی عبدالکریم صاحب کے پڑھنے سے ہوتا تھا۔اسی طرح اُس زمانہ میں ہماری جماعت میں کوئی اچھے پائے کا فلسفی اور منطقی دماغ رکھنے والا آدمی نہ تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو ہدایت دے دی اور وہ آپ پر ایمان لے آئے۔اس کے بعد آپ پشاور میں پروفیسر مقرر ہوئے لیکن کچھ عرصہ کے بعد قادیان کی محبت کی نے غلبہ کیا اور آپ قادیان تشریف لے آئے اور دستی بیعت کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی صاحب سے فرمایا آپ یہیں رہ جائیں۔چنانچہ آپ یہیں رہنے لگ گئے۔بعض لوگوں نے زور دیا کہ مولوی صاحب کالج میں پروفیسر ہیں اور اچھی جگہ کام کر رہے ہیں ، ان کی ملازمت سے سلسلہ کو فائدہ ہوگا اور ان کے ذریعہ تبلیغ ہو گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو واپس جانے کی اجازت دے دی لیکن کچھ عرصہ کے بعد مولوی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت لے کر واپس آگئے اور قادیان میں مستقل رہائش اختیار کر لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی صاحب کامد کا مباحثہ مشہور چیز ہے۔اُس زمانہ میں مولوی صاحب مدرسہ احمدیہ میں پڑھایا کرتے تھے۔آپ نے کالج کی پروفیسری چھوڑ کر سکول کی مدرسی اختیار کی۔اُس وقت آپ کو پندرہ بیس روپے ماہوار تنخواہ ملتی تھی۔میں بھی اُن دنوں سکول میں پڑھتا تھا اور کچھ عرصہ میں نے بھی مولوی صاحب سے تعلیم حاصل کی ہے۔گومیرے نزدیک اُن کی تعلیم کا طریقہ سکول کے لڑکوں میں کامیاب نہ تھا۔اس لحاظ سے میں نے اُن کی سکول کی تعلیم سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا۔البتہ قاضی امیر حسین صاحب اچھا پڑھاتے تھے اور لڑکوں پر کنٹرول اور ضبط بھی اچھا رکھتے تھے۔لیکن مولوی صاحب چھوٹے لڑکوں پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے تھے۔چونکہ مولوی صاحب کی تعلیم کا رنگ فلسفیا نہ تھا اس لئے وہ بچوں کے پڑھانے میں کامیاب نہ تھے۔جب مدرسہ احمدیہ کالج کی شکل اختیار کر گیا تو آپ کو اس کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔یہ حالت اُن کی قابلیت کے معیار کے کسی حد تک مطابق تھی۔ظاہری لحاظ سے مدرسی تعلیم میں مولوی صاحب سب سے زیادہ ماہر فن تھے۔میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول درسی کتب کے بعض مشکل مقامات کے متعلق مولوی سید سرور شاہ صاحب سے فرماتے کہ آپ اس کا مطالعہ کر کے پڑھا ئیں مجھے اس کی مشق نہیں۔چنانچہ مولوی صاحب وہ مشکل مقامات طالب علموں کو پڑھاتے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول۔