خطبات محمود (جلد 28) — Page 156
خطبات محمود 156 سال 1947ء اور کسی محلہ کی رپورٹ ابھی تک میرے پاس نہیں آئی۔اس محلہ والوں نے شاید اس لئے جلدی کی ہو کہ آجکل جو ناظر صاحب بیت المال ہیں وہ اس محلہ میں رہتے ہیں۔شاید انہوں نے یہ کوشش کی ہو کہ میرے محلے کی اطلاع وقت پر پہنچ جائے۔باقی تمام محلے ابھی کوشش کر رہے ہیں۔بعض کے متعلق ناقص رپورٹیں آئی ہیں لیکن مکمل رپورٹ محلہ دارالشکر کی طرف سے آئی ہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں گورداسپور کی زمیندار جماعتوں میں سے کسی ایک کی طرف سے بھی ابھی تک وعدوں کی اطلاع نہیں آئی۔گورداسپور کی شہر کی رپورٹ میرے پاس آچکی۔ضلع کی باقی جماعتوں میں سے کسی کی طرف سے اطلاع نہیں آئی۔یہ صورتِ حالات اطمینان بخش نہیں۔بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ اُن میں انتظار کیا جا سکتا ہے اور بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں انتظار نہیں کیا جاسکتا۔اگر کسی شخص کو ملیر یا بخار ہو جائے تو اُس میں کو نین کا انتظار کیا جا سکتا ہے کہ اگر صبح کے وقت نہیں دی تو شام کے وقت دے دی جائیگی۔لیکن اگر کسی شخص کو سانپ نے کاٹا ہو تو اُس کی دوائی کے لئے ایک گھنٹہ بھی انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ایک گھنٹہ تو کیا آدھا گھنٹہ بلکہ پندرہ منٹ بھی انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ہو سکتا ہے کہ پندرہ منٹ کے اندراندر ہی اس کی جان نکل جائے۔پس ہر ایک امر کے لئے موقع ہوتا ہے۔بعض امور میں انتظار کیا جا سکتا ہے لیکن بعض امور میں بہت تھوڑا انتظار کرنا بھی سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔جو لوگ امانت بھجوانے کے وعدے کر کے گئے تھے اُن کے وعدوں میں بھی کمزوری نظر آتی ہے۔میری رپورٹوں کے مطابق اب تک پچپیس فیصدی امانت صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ میں داخل ہوئی ہے۔اور بیت المال کی رپورٹوں کے مطابق دس فیصدی۔کیونکہ دفاتر میں ریکارڈ وغیرہ کرنے میں کچھ وقت لگ جاتا ہے۔یہ رفتار بہت سست ہے اور اس رفتار سے کام کرنے سے ہم مطمئن نہیں ہو سکتے۔یہ تو صرف امانت داخل کرانے کا معاملہ ہے۔اس میں دوستوں کو جلدی کرنی چاہیئے کیونکہ اس کا قریب ترین عرصہ میں جمع ہونا ہی ہمارے لئے مفید ہے۔اور وہ دوست جو کہ ابھی سوچ اور فکر میں ہیں کہ رقم کب جمع کرائی جائے ؟ اُن کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اُن کا سوچنا بے موقع اور بے محل ہے۔اُن کا سوچ بچار ایسا ہی ہے جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ سنا چکا ہوں کہ ایک دفعہ ہم دریا پر گئے۔وہاں آٹا ختم سوائے گلانوالی کے جس کی رپورٹ خطبہ کے بعد آئی ہے