خطبات محمود (جلد 28) — Page 155
خطبات محمود 155 سال 1947ء۔جماعتیں ایسی ہیں جو کہ زیادہ اہمیت اور حیثیت رکھتی ہیں لیکن وہ سب کی سب خاموش ہیں۔اسی طرح شہری جماعتوں میں سے اکثر کے وعدے نہیں آئے۔شہری جماعتوں میں سے سوائے سیالکوٹ کے جس کا ذکر گزشتہ خطبہ میں ہو چکا ہے۔صرف دہلی اور لاہور کی جماعتوں نے اپنے وعدے بھجوائے ہیں۔مگر دہلی کی جماعت نے متفرق طور پر اور لاہور کی جماعت نے نہایت ناقص طور پر وعدے بھجوائے ہیں۔ان شہری جماعتوں کے وعدے ہمارے اصول کے مطابق نہیں ہے آئے۔سب سے زیادہ توجہ اس تحریک کی طرف فوجیوں میں نظر آتی ہے۔وقف آمد میں بھی فوجی آگے ہیں اور اس وقت قربانی میں بھی فوجی آگے ہیں۔اور بعض نے تو لبیک کہتے ہوئے ساتھ ہی چیک (Cheque) بھی بھیج دیئے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا تعلق علم اور عقل سے ہوتا ہے۔چونکہ اکثر فوجیوں میں سے لکھے پڑھے ہوتے ہیں۔ہماری جماعت کے فوجیوں کا اکثر حصہ لکھے پڑھوں میں سے ہے اور دوسرے باہر پھرنے کی وجہ سے انکی عقل تیز ہو جاتی ہے وہ نتائج تک جلد پہنچ جاتی ہے۔اور یا پھر یہ وجہ ہے کہ ان لوگوں نے خطرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ خطرات بعض اوقات کس قدر نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے شہروں کو اجڑتے اور بستیوں کو ویران ہوتے دیکھا ہے اور انہوں نے یہ دیکھا ہے کہ تو میں اپنی ذراسی سستی اور لغزش کی وجہ سے کہاں سے کہاں جا پہنچتی ہیں۔اسی طرح انہوں نے قوموں کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔اُنہوں نے عورتوں اور بچوں کو جنگلوں میں بھاگتے ہوئے اور چھپتے ہوئے دیکھا ہے۔اس لئے اُن کے تجربہ نے اُن کی آنکھیں کھول دی ہیں اور وہ قربانیوں میں پیش پیش ہیں۔قادیان میں لجنہ اماء اللہ نے نہایت اعلیٰ کام کیا ہے اور ان کے وعدوں کی مکمل فہرست میرے پاس آچکی ہے۔لجنہ اماء اللہ قادیان کے وعدے چودہ ہزار کے ہیں۔اگر عورتوں کے وعدوں پر قیاس کرتے ہوئے مردوں کے وعدوں کا اندازہ لگایا جائے تو وہ ستر ، اسی ہزار سے کم نہیں ہونے چاہئیں۔میرے پاس مردوں کی طرف سے اکا دُکا رپورٹیں آئی ہیں۔ممکن ہے کہ مرد بھی ابھی کوشش کر رہے ہوں۔صرف ایک محلے کی مکمل رپورٹ آئی ہے اور اسی سے باقیوں کی تی حیثیت کے متعلق قیاس کیا جا سکتا ہے۔یہ محلہ دارالشکر ہے جو قادیان کی آبادی کا پچاسواں حصہ بھی نہیں۔لیکن اس کی طرف سے دو لاکھ سے اوپر وقف جائیداد کی اطلاع آئی ہے اس کے علاوہ