خطبات محمود (جلد 28) — Page 48
خطبات محمود 48 48 سال 1947ء حالت نہایت گندی ہو جاتی ہے۔پس یہ ایک ایسی تجویز ہے جس میں قادیان کے ہر باشندے کا فائدہ مضمر ہے۔اور میرے نزدیک قادیان کے تمام باشندوں کا فرض ہے کہ وہ اس بارہ میں اشتراک عمل کا ثبوت دیں۔کیونکہ اس میں نہ صرف ہر شخص کا ذاتی فائدہ مضمر ہے بلکہ اُس کے رشتہ داروں اور دوستوں اور باقی تمام جماعت کا بھی اس سکیم کے ماتحت چلنے میں فائدہ ہے۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو قادیان کی آبادی بڑھنی بند ہو جائے گی اور صرف مالدار ہی زمینیں خرید سکیں گے۔مگر یہ بھی سوچو کہ ہماری جماعت میں مالدار ہیں کتنے۔مزدور یا پھر اعلیٰ مخلص ایسی زمینیں خریدیں گے اور وہ کنگال ہو کر بیٹھ جائیں گے اور جماعت کو ان کا بار اٹھانا پڑے گا۔مثلاً فرض کرو ایک شخص کے پاس تین چار ہزار روپیہ کی پونچی ہے۔وہ تین ہزار میں زمین خرید لیتا ہے۔اور ایک ہزار میں کچا سا کوٹھا بنا لیتا ہے تو اس کے بعد وہ کیا کرے گا۔وہ اپنے مکان میں بیٹھ تو جائے گا مگر اُسے نظر نہیں آئے گا کہ وہ اب کیا کرے۔اُس نے اپنے اخلاص میں قادیان آنا قبول کر لیا مگر تاجر پیشہ لوگوں نے اُس پر یہ ظلم کیا کہ اُنہوں نے اُس کی اور اُس کے خاندان کے کمانے کی طاقت کو سلب کر لیا۔اور اُسے ایسا غریب اور کنگال کر دیا کہ وہ آئندہ ترقی سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گیا۔یہ کتنا بڑا گناہ ہے جس کے وہ مرتکب ہو رہے ہیں۔پس یہ ایک نہایت ہی نازک معاملہ ہے اور امور عامہ کا فرض ہے کہ وہ جلد سے جلد اس حکم کی تعمیل کر کے اگلے ہفتہ تک میرے پاس رپورٹ کرے۔تمام محلہ جات میں بورڈوں پر اس کے متعلق اعلان کر دیا جائے۔جمعہ میں میں نے اعلان کر دیا ہے کہ ایک ہفتہ کے اندر اندر وہ لوگ جنہوں نے 9 سال کے اندراندر کوئی زمین فروخت کی ہو یا خریدی ہو وہ اپنے نام امور عامہ میں نوٹ کرا دیں اور بتائیں کہ انہوں نے اپنی زمینوں میں رستوں کو مدنظر رکھا ہے یا نہیں۔اگر میرے حکم کے مطابق رستے رکھے گئے ہیں تب تو خیر ورنہ قادیان کی موجودہ آبادی سے نصف نصف میل پرے کے تمام سودے منسوخ کر دیئے جائیں۔گاہک چاہے تو سودا منظور کرلے اور رستہ دے دے اور اگر وہ پسند نہ کرے تو اُسے مالک زمین سے قیمت واپس دلائی جائے اور مالک کو اختیار دیا جائے کہ وہ دوبارہ رستے بنا کر جس کے پاس چاہے زمین فروخت کر دے۔لیکن میں سمجھتا ہوں جس رنگ میں ہم انتظام قائم کرنا چاہتے ہیں اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے مالکوں کی یہ بیوقوفی ہوگی اگر وہ یہ