خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 47

خطبات محمود 47 سال 1947ء میں انسانی جسم میں ضعف واقع ہو جائے سل اور دق کے جراثیم اُس میں اپنا گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں۔پس یہ سکیم سارے شہر کے فائدے کے لئے ہے۔قطع نظر اس سے کہ یہ میرا حکم ہے۔ہر احمدی اگر اپنی عقل سے کام لے گا اور وہ اس کے فوائد کو سوچے گا تو اُسے نظر آئے گا کہ یہ سکیم گا ہک کے فائدے کے لئے بھی ہے، بیچنے والے کے فائدہ کے لئے بھی ہے اور باقی لوگوں کے فائدہ کے لئے بھی ہے۔اور اگر قادیان کے تمام لوگ غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچیں تو انہیں یا درکھنا چاہیئے کہ اُن کا مشتر کہ دباؤ ایسے لوگوں کی اصلاح کا بہت بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔دنیا میں نفع اس بات کا نام نہیں ہوتا کہ ایک کنال میں سے سارا نفع حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔در حقیقت دنیا میں دو قسم کے تاجر ہوتے ہیں۔ایک بیوقوف تاجر ہوتا ہے جو سمجھتا ہے کہ میرے پاس دس من گندم ہے میں اس دس من گندم سے جس قدر نفع حاصل کرنا چاہتا ہوں حاصل کرلوں۔اور ایک ہوشیار تاجر ہوتا ہے جو نفع کم رکھتا ہے اور اُس کی بکری بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح ایک تاجر کی اگر دس کنال زمین فروخت ہوتی ہے تو دوسرے کی سو کنال زمین فروخت ہو جاتی ہے۔اور اس طرح اُسے وہی نفع مل جاتا ہے جو دس کنال والا حاصل کرتا ہے مگر انصاف سے اور جائز اور حلال کمائی کی صورت میں۔پس ایک ایک کنال زمین کی قیمت بے تحاشا بڑھاتے چلے جانا بیوقوفی کی بات ہے۔اس کے نتیجہ میں غرباء کے لئے مشکل پیش آئے گی اور وہ قادیان کی ترقی میں حصہ لینے سے محروم رہ جائیں گے۔میرے نزدیک یہ بھی ہو جانا چاہیئے کہ ایک علاقہ ایسا مقرر ہو جائے جس میں غرباء کو چھوٹی چھوٹی عمارتیں بنانے کی اجازت دے دی جائے۔جیسا کہ بڑے شہروں میں بالعموم دستور ہوتا ہے ہے اور وہاں قیمتوں کو زیادہ کنٹرول میں رکھا جائے۔اُس علاقہ میں پانچ پانچ مرلے یا آٹھ آٹھ ، دس دس مرلہ میں مکان بنانے کی اجازت ہونی چاہیئے۔ہو سکتا ہے کہ اس کے متعلق سلسلہ کی طرف سے کوئی کمیٹی بنادی جائے اور امراء سے روپیہ لے کر ایسا ٹکڑہ خرید لیا جائے۔پھر سستی قیمت پر لوگوں میں فروخت کیا جائے تاکہ غرباء کو مکانات بنانے میں کوئی دقت محسوس نہ ہو کیونکہ غرباء ہی ہیں جن کی شہروں میں اکثریت ہوتی ہے۔اب تو یہ حال ہے کہ ایک غریب شخص چار پانچ ہزار روپیہ میں جو اُس کی عمر بھر کا اندوختہ ہوتا ہے ایک کنال زمین خرید لیتا ہے۔اور پھر اس میں سے دو دو تین تین مرلے بڑی قیمت پر بیچنا شروع کر دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ شہر کی ظاہری