خطبات محمود (جلد 28) — Page 49
خطبات محمود 49 سال 1947ء سمجھیں گے کہ وہ بعد میں اپنی زمینوں سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے۔کیونکہ ہم اب ایسے قانون کی بنانے والے ہیں جن سے نفع ایک حد کے اندر رہے۔ہم اب بھی قادیان کی زمینوں کے مالک ہیں اور سب سے بڑا حملہ اس قانون کا خود میری ذات پر پڑنا ہے۔پس میں کسی کی بدخواہی کے لئے ایسا نہیں کہہ رہا کیونکہ اس کا سب سے زیادہ نقصان خود مجھ کو ہے۔ہم یہاں کے بڑے زمیندار ہیں۔اور ہماری ارد گرد بہت سی زمینیں ہیں۔جو بھی حد بندی ہوئی اُس کا لازماً ہم پر دوسروں سے زیادہ اثر پڑے گا۔مگر ہمیں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں۔کیونکہ خدا کے منشاء کا پورا ہونا ہماری جیبوں کے پُر ہونے سے زیادہ بہتر ہے۔خدا قادیان کو بڑھانا چاہتا ہے اور یقیناًا جو شخص قادیان کی آبادی کی خاطر کسی قسم کی قربانی سے کام لے گا اللہ تعالیٰ اُسے ضائع نہیں کرے گا۔میرے ساتھ اُس کا یہی سلوک چلا آ رہا ہے۔چنانچہ بغیر کسی انسان کی مدد کے اُس نے ہمیشہ غیب سے ایسے سامان کئے کہ خود بخود میری جائیداد بڑھتی چلی گئی اور اس بارہ میں نہ میں نے سلسلہ سے مدد لی اور نہ کسی اور فر د سے۔ہمیشہ خدا نے میرے لئے غیرت دکھائی اور وہ اپنے فضل سے میری جائیداد کی ترقی کے سامان کرتا رہا اور لوگ اپنی زمینیں خود بخود میرے پاس بیچتے چلے گئے۔چنانچہ سندھ میں ایسی مشکلات پیش آئیں کہ وہ لوگ جن کی زمینیں تھیں اُن میں سے بعض نے منتیں کرنی شروع کر دیں کہ یہ زمینیں ہم سے لے لی جائیں۔اور بعض کا ارادہ زمین خرید نے کے بعد بدل گیا اور اُنہوں نے دوسری جگہ پر جائیداد بنانے کا فیصلہ کر لیا۔جب میں نے وہ زمینیں لے لیں تو یکدم زمین کی قیمت بڑھ گئی اور غلہ کی قیمت بھی زیادہ ہوگئی۔اس طرح جس چیز نی کو میں قربانی سمجھ رہا تھا خدا نے بتایا کہ در حقیقت یہ اُس کی ایک تدبیر تھی جس سے مجھے فائدہ پہنچا نا مقصود تھا۔غرض اللہ تعالیٰ کے لئے جو شخص قربانی کرتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں جاتا۔پس ہے میں مالکوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس حماقت کے ارتکاب کو ترک کر دیں جس میں وہ مبتلا چلے آرہے ہیں۔ان کے ایسے خیالات اللہ تعالیٰ پر ایمان کی کمی کا نتیجہ ہیں۔ورنہ اگر وہ خدا کے لئے اس طریق کو اختیار کریں جو قادیان کی ترقی اور اس کی وسعت میں محمد ہو اور جس سے ی قادیان کی خوبصورتی ترقی کرے تو یقیناً خدا اُن کی جائیدادوں کو اور زیادہ وسیع کر دے گا۔ابھی تو قادیان نے بیاس تک پہنچنا ہے۔اور قادیان کے ادھر ادھر بھی پانچ پانچ چھ چھ میل تک لاکھوں ایکڑ کا چی