خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 444

خطبات محمود 444 سال 1947ء سے کافی نہیں ہو سکتیں۔مگر انہیں میدانوں میں خیمے لگا کر جگہ نکالی جا سکتی ہے۔ممکن ہے چار پانچ سو کی جگہ نکل آئے۔تین چار سو مسجد میں ٹھہر جائیں گے۔تین چار سو مختلف کوٹھیوں میں ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔اسی طرح ممکن ہے جماعت کے دوستوں کی امداد سے نوسویا ہزار مہمانوں کے لئے اُن کے مکانات میں جگہ نکل آئے۔لیکن اس صورت میں یہ بھی انتظام ضروری ہوگا کہ چونکہ لاہور شہر بہت بڑا ہے اور لوگ دور دور رہتے ہیں کھانا کھانے کے لئے وہ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکیں گے۔اس لئے جولوگ گھروں میں ٹھہر میں سلسلہ کی طرف سے حساب لگا کر اُن کے لئے ایک رقم مقرر کر دی جائے۔اور اُن دوستوں کو جن کے ہاں مہمان ہوں فی خوراک کے حساب سے اتنی رقم دے دی جائے تا کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں مہمانوں کو کھانا کھلا سکیں۔آخر باراتیں بھی لوگوں کے گھروں میں آتی ہیں اور لوگ چالیس چالیس پچاس پچاس آدمیوں کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔اسی طرح اگر آٹھ آٹھ دس دس مہمانوں کا گھروں میں انتظام ہو جائے تو اُن کا کھانا بھی تین چار دن گھر کی مستورات محنت اور تکلیف اٹھا کر خود تیار کر لیں۔سلسلہ کی طرف سے ایک مقررہ رقم مہمانوں کے لئے ان کو دے دی جائے گی۔اسی طرح مہمانوں کو کھانا کھانے کے لئے دو دو تین تین میل کا چکر کاٹ کر آنے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔قادیان کے رہنے والے وہاں جلسہ کر لیں گے تاکہ قدیم سے جو ہمارا طریق چلا آ رہا ہے اُس میں کوئی وقفہ نہ پڑے۔اصل جلسہ تو وہی ہو گا جو قادیان میں ہوگا۔ہمارا جلسہ صرف ایک ظلی جلسہ ہو گا جو اُس کی تائید کے لئے اور اس احتجاج کے لئے منعقد کیا جائے گا کہ ایک پُر امن اور حکومت کی ہمیشہ وفادار رہنے والی جماعت کو اُس کے مقدس مقام سے محروم کر دیا گیا ہے۔اس کی لئے وہ اپنے مقدس مقام سے باہر جلسہ کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ یہاں کے جن دوستوں کو مکانات دینے کی توفیق ہے وہ جلد سے جلد اپنے نام لکھوا دیں گے۔نام نظارت اعلیٰ یا نظارت ضیافت میں لکھوائے جائیں اور بتایا جائے کہ وہ کتنے آدمیوں کو ٹھہر اسکیں گے اور کتنی گنجائش اپنے مکانوں میں نکال سکیں گے۔اسی طرح اگر کوئی اور تجویز کسی دوست کے ذہن میں آئے تو وہ بھی بتا دیں۔مثلاً اگر ہمیں کوئی ایسا مکان مل سکے جس میں سو ڈیڑھ سو آدمی اکٹھے رہ سکیں اور کسی دوست کو اُس کا علم ہو تو وہ بھی ہمیں اطلاع دے دیں۔نظارت دعوۃ وتبلیغ کو