خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 443

خطبات محمود 443 سال 1947ء۔نہیں ہوا بلکہ ابھی تک ہماری آمد ، آمد بجٹ سے بھی کم ہے۔یعنی قریباً 1/4 حصہ آمد کا ہے۔حالانکہ حالات کے بدلنے کی وجہ سے اخراجات بہت زیادہ ہو رہے ہیں۔اس لئے ایک شرط تو یہ ہوگی کہ اس جلسہ پر عورتوں کے لئے گلی طور پر ہدایت ہو گی کہ وہ جلسہ سالانہ پر نہ آئیں۔اس کی تین وجہیں ہیں۔ایک یہ کہ عورتوں کے ٹھہرانے کے لئے جگہ کا انتظام ہمارے لئے بالکل ناممکن ہی ہے ہے۔دوسرے سفر کی دقتیں بہت سی ہیں۔عورتیں آئیں تو ان کے بچوں کا آنا بھی ضروری ہوتا ہے۔اور یہ ان کے لئے ناقابل برداشت تکلیف ہو جائے گی۔تیسرے عورتوں کے لئے الگ جلسہ کا انتظام بھی مشکل ہے۔پس ایک شرط تو یہ ہے کہ اس جلسہ پر عورتوں کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔سوائے اُن کے جن کے رشتہ داروں نے اپنے طور پر یہاں رہائش اور خوراک وغیرہ کا انتظام کیا ہوا ہو۔مثلاً اُن کے رشتہ دار یہاں موجود ہوں یا دوست ہوں جنہوں نے اُن سے وعدہ کر لیا ہو کہ وہ اپنے گھروں میں اُن کو ٹھہر اسکیں گے۔بہر حال جلسہ کی طرف سے اُن کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوگا۔دوسری شرط یہ ہے کہ اس جلسہ پر صرف دو ہزار مہمانوں کا انتظام کیا جائے۔اِن دو ہزار مہمانوں میں مجلس شوری کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ہر ضلع کا کوٹا (Quota) مقرر کر دیا جائے گا کہ فلاں فلاں ضلع سے اتنے اتنے آدمیوں کے آنے کی اجازت ہے اور اتنے ہی کی آدمیوں کی رہائش اور خوراک وغیرہ کا انتظام کیا جائے گا۔زائد آنے والوں کے لئے سلسلہ کی طرف سے کوئی انتظام نہیں ہوگا۔اگر کوئی آئے گا تو اسے اپنی رہائش اور خوراک کا اپنے طور پر انتظام کرنا ہو گا۔لیکن ان دو ہزار مہمانوں کے ٹھہرانے کا انتظام بھی ہمارے لئے مشکل ہے۔میں سمجھتا ہوں کچھ مسجد میں ٹھہر جائیں گے اور کچھ مکانات جو ہماری جماعت نے دفتری انتظامات کے لئے ، لئے ہوئے ہیں اُن میں ٹھہر سکیں گے۔لیکن اُن کی تعداد چھ سات سو سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔بہر حال دو ہزار آدمیوں کا ٹھہرانا بھی ہمارے لئے مشکل ہو گا۔سوائے اس کے کہ جس طرح قادیان کے لوگ جلسہ سالانہ پر اپنے مکانات پیش کیا کرتے تھے اُسی طرح لاہور کی جماعت کے دوست بھی اپنے مکانات پیش کریں اور بتائیں کہ کس کس کے مکان میں کتنے آدمی ٹھہر سکتے ہیں۔تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ خیمے لگوا دئیے جائیں اور اُن میں مہمان ٹھہرائے جائیں۔جس طرح قادیان کے انخلاء کے موقع پر یہاں قناتیں لگا دی گئی تھیں۔وہ تو اب سردی کی وجہ