خطبات محمود (جلد 28) — Page 445
خطبات محمود 445 سال 1947ء چاہیئے کہ وہ جلد سے جلد جلسہ کا پروگرام تیار کرے اور بیرون جات کی جماعتوں کو تاروں کے ذریعے جلسہ کی اطلاع دے دے۔مغربی پاکستان کے لوگوں کو تو خط کے ذریعہ بھی اطلاع دی جاتی سکتی ہے۔مشرقی پاکستان اور ہندوستان کی جماعتوں مثلاً حیدر آباد، بمبئی ، مدراس ، بنگلور، لکھنؤ اور کلکتہ وغیرہ کو تاریں چلی جائیں پھر وہ اپنے طور پر اور دوستوں کو اطلاع دے سکتے ہیں۔بہر حال آج ہی ضلع وار مہمانوں کی تقسیم کر کے مجھ سے منظوری لے لی جائے یعنی اس امر کی منظوری کہ مختلف جماعتوں کو کتنے کتنے آدمی بھجوانے کی اجازت ہو گی۔میں اُمید کرتا ہوں کہ دوست محنت کر کے آج شام تک اس کام کو مکمل کر لیں گے اور یہ کوئی مشکل بات نہیں۔جماعتوں کی لٹیں موجود ہیں اور چندہ کی بناء پر اُن کے افراد کی لسٹیں بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔ناظر دعوة ، ناظر ضیافت اور ناظر اعلیٰ تینوں مل کر آج شام تک یہ کام کر سکتے ہیں اور کل تاریں دی جا سکتی ہیں۔جلسہ کے مقام کے متعلق بھی فیصلہ کر لیا جائے کہ کہاں کیا جائے۔میرے نزدیک یہاں مختلف کوٹھیوں کے ساتھ اتنے بڑے بڑے میدان ہیں کہ باہر کے دو ہزار اور یہاں کے ڈیڑھ دو ہزار یعنی چار پانچ ہزار افراد کے بیٹھنے کی جگہ ان میں بڑی آسانی سے نکل سکتی ہے۔لیکن اگر ان میدانوں میں جلسہ نہ ہو سکے تو کوئی اور جگہ تجویز کر لی جائے۔اس کوٹھی کے شمال کی طرف بھی بڑا میدان مین ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس میں پانچ چھ ہزار آدمی جمع ہو سکتا ہے۔“ (الفضل 16 دسمبر 1947 ء )