خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 363

خطبات محمود 363 سال 1947ء سُست رہنا، اپنے فرائض سے غافل رہنا اور وقت کو ضائع کر دینا یہ بہت بڑی آفت ہوتی ہے۔اس آفت سے نکلنے کی کوشش کرو اور اُن بہادروں میں اپنے آپ کو شامل کرو جو دنیا کو تبدیل کر دیا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ تم سے اس وقت یہ کام لینا چاہتا ہے۔اور جب خدا کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو وہ اس میں اُس کام کی قابلیت بھی ضرور رکھتا ہے۔ہاں جب وہ قوم خدا تعالیٰ سے اپنا منہ بالکل موڑ لے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے تباہ کر دیتا اور اس کی جگہ ایک نئی قوم لے آتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مسلمانوں سے فرماتا ہے کہ اگر تم ہمارے رسول کا ساتھ نہیں دو گے تو اللہ تعالیٰ ایک اور قوم لے آئے گا اور تمہیں اس ثواب سے محروم کر دے گا۔5 لیکن جب تک کوئی قوم تھوڑا بہت بھی کام کرتی ہے خدا تعالیٰ کی مدد سے حاصل رہتی ہے۔بشرطیکہ وہ رضا القضا کی عادت ڈال لے اور سمجھ لے کہ وہ ایک آلہ اور ہتھیار ہے۔اور خدا تعالیٰ کا اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے اُس سے کام لے۔یہی اصل ایمان کی علامت ہوتی ہے اور اسی ایمان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوتے ہیں۔حضرت امام حسنؓ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک دفعہ سوال کیا کہ کیا آپ کو مجھ سے محبت ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ کو خدا تعالیٰ سے محبت ہے؟ حضرت علیؓ نے کہا ہاں اللہ تعالیٰ سے بھی محبت ہے۔حضرت امام حسن نے کہا۔پھر تو آپ نَعُوذُ بِاللهِ مشرک ہوئے۔آپ خدا تعالیٰ سے بھی محبت کرتے ہیں اور مجھ سے بھی۔حضرت علی نے جواب دیا۔میں مشرک ہرگز نہیں۔بے شک مجھے خدا تعالیٰ سے بھی محبت ہے اور تم سے بھی۔لیکن اگر یہ دونوں محبتیں کسی وقت ٹکرا جائیں تو میں تمہاری محبت کی ذرا بھی پروا نہیں کرونگا بلکہ اسے بے کار سمجھ کر الگ پھینک دونگا۔پس یہ ایک غلط خیال ہے جو بعض لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا۔کامل انسان وہ ہوتا ہے جسے کسی سے محبت نہ ہو ، پیار نہ ہو، یا وہ کسی دکھ پر غم محسوس نہ کرتا ہو۔احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک نواسہ ایک دفعہ شدید بیمار ہوا اور اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔آخر ایک دن جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجلس میں تشریف فرما تھے آپ کی بیٹی نے آپ کو اطلاع بھجوائی کہ لڑکے کی حالت سخت نازک ہے آ۔تھوڑی دیر کے لئے تشریف لائیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس وقت کسی سے گفتگو فر