خطبات محمود (جلد 28) — Page 364
خطبات محمود 364 سال 1947ء رہے تھے۔آپ نے کلام کو قطع کرنا مناسب نہ سمجھا اور پیغامبر واپس چلا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ کی لڑکی نے پھر پیغام بھجوایا کہ حالت زیادہ خراب ہے جلدی تشریف لائیں۔مگر آپ نے پھر بھی توجہ نہ فرمائی۔آخر تیسری دفعہ پھر پیغام آیا۔جب تیسری دفعہ پیغام آپ کے پاس پہنچا تو آپ لڑکے کی حالت دیکھنے کے لئے اندر تشریف لے گئے۔جب آپ گئے اُس وقت لڑکے پر نزع کی حالت طاری تھی۔آپ نے بچے کو ہاتھ میں اٹھا لیا اور آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ایک صحابی جو آپ کے ساتھ ہی کھڑے تھے انہوں نے آپ کو روتے دیکھا تو حیران ہو کر کہا یا رسول اللہ ! آپ خدا کے رسول ہو کر ایک بچے کی موت پر روتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا نے میرے دل میں شفقت اور رافت پیدا فرمائی ہے۔اگر تمہارا دل ان مالی جذبات سے عاری ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں 6 تو جہاں تک جذبات کا سوال ہے کوئی نبی اور ولی اور بزرگ جذبات سے عاری نہیں ہوتا۔بلکہ ہر نبی ، ہر ولی اور ہر بزرگ خوشی سے خوشی اور غم سے غم محسوس کرتا ہے۔اور جو شخص ایسا کہتا ہے کہ فلاں بزرگ یا فلاں صوفی غم سے غم اور خوشی سے خوشی محسوس نہیں کرتا وہ بزرگ اور صوفی نہیں بلکہ مکار اور فریبی اور دھو کے باز انسان ہے۔خدا تعالیٰ کے انبیاء بھی اور صدیق ، شہید اور صالح بھی سب تکلیف پر تکلیف اور غم پر غم اور خوشی پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔جو چیز انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے کامل طور پر تابع کر دیتے ہیں۔گو یا اکیلا غم ان پر کبھی نہیں آتا بلکہ ہر غم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کا احساس بھی اُن کے دلوں میں تازہ ہو جاتا ہے۔پس تم اپنے قلوب میں تبدیلی ، اپنے ارادوں میں پختگی اور اپنے کاموں میں استقلال پیدا کرو۔تا خدا تعالیٰ کے سامنے بھی ہمارے ایمان کا مظاہرہ ہو اور دنیا کے سامنے بھی ہم جلد سے جلد اپنی جڑیں زمین کی پاتال تک پہنچا کر اسے دکھا سکیں کہ ہمارا درخت پہلے سے بہت زیادہ اونچا ہو گیا ہے اور اس کی شاخیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم قادیان کا خیال اپنے دل سے نکال دیں گے۔وہ ہماری چیز ہے اور یقینا ہمیں مل کر رہے گی۔لیکن ہم ایسے بزدل بھی نہیں کہ اپنی کمر ہمت تو ڑ کر بیٹھ جائیں۔ہم اپنے یار وفادار کے غدار نہیں ہیں کہ جب اُس نے ہم پر ایک مصیبت نازل کی ہے تو بجائے خوشی سے اس کو قبول کرنے کے ہم