خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 325

خطبات محمود 325 سال 1947ء باتیں کرتے ہوئے جس طرح استاد اپنے شاگر د کو بتلاتا ہے ایک فقرہ کہا۔مجھے افسوس ہے کہ وہ جی فقرہ مجھے یاد نہیں رہا۔مگر اتنا یقینی طور پر یاد ہے کہ اس میں مہاراجہ پٹیالہ کا ذکر آتا تھا۔حدیث کی روایت اور اس حوالہ کی تشریح کرتے ہوئے آپ گھاس دکھا کر فرماتے ہیں کہ اس سے مہاراجہ پٹیالہ کے متعلق یہ بات نکلتی ہے۔گویا حدیث کی کوئی روایت ہے جس کا تعلق گھاس سے ہے۔اور اسی لی وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ گھاس پیدا کیا جاتا ہے اور حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں کہ اس سے ی مہاراجہ پٹیالہ کے متعلق یہ بات نکلتی ہے۔خواب میں تو مجھے یاد تھی مگر اٹھنے پر میں بھول گیا۔بہر حال نورالدین نام بڑا اچھا ہے۔یعنی دین کا نور۔امۃ القیوم، امتہ العزیز اور مریم صدیقہ یہ بھی بڑے اچھے نام ہیں۔بخاری شریف کا پڑھانا بھی بڑا اچھا ہے۔گو آخر میں جو نتیجہ نکالا گیا تھا وہ یاد نہیں رہا مگر اتنی تعبیر تو بہر حال واضح ہے کہ دین کا نور پھر زندہ کیا جائے گا۔حضرت خلیفہ اول تو وفات پاچکے ہیں۔آپ کی زندگی سے یہی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کا نور دنیا میں پھر زندہ کر دے گا۔عجیب بات ہے میں ابھی خطبہ کے لئے آ رہا تھا کہ ایک عورت میرا راستہ روک کر کھڑی ہوئی گئی اور کہنے لگی کہ میں نے ایک خواب دیکھی ہے۔چونکہ آگے ہی دیر ہو گئی تھی میں نے کچھ بچے نے کی کوشش کی۔مگر اس نے مجھے گزرنے نہیں دیا اور مجبور کر کے اپنی خواب سنا دی۔اس نے بھی جو خواب دیکھا ہے وہ اس خواب سے ایک حد تک مل جاتا ہے۔اس نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مسجد اقصیٰ میں ایک بہت بڑا آلہ نشر الصوت لگایا جا رہا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ دہلی کا آلہ تو صرف ہندوستان تک سنائی دیتا ہے مگر یہ آلہ بڑی عمدگی کے ساتھ ساری دنیا میں اپنی خبر میں سنائے گا۔پھر وہ کہتی ہیں میں نے دیکھا کہ خدام الاحمدیہ ادھر اُدھر پھر کر انتظامات کر رہے ہیں۔اور قادیان کا تھانیدار جو سکھ ہے وہ چپڑاسی کے طور پر ان کے احکام ادھر ادھر پہنچا رہا ہے۔چونکہ وہ قادیان سے آئی تھی۔اس نے کہا وہی جو آج کل بڑی شرارتیں کر رہا ہے۔میں نے تو دیکھا ہے کہ خدام الاحمدیہ اسے احکام دیتے ہیں تو وہ ان کی تعمیل کے لئے ادھر ادھر دوڑا پھرتا ہے۔مہا راجہ پٹیالہ بھی سکھ ہیں اور اس نے بھی سکھ تھانیدار ہی دیکھا ہے۔اتنا حصہ تو دونوں خوابوں کا آپس میں مل جاتا ہے۔مجھے افسوس ہے کہ آخری فقرہ مجھے یاد نہیں رہا۔حضرت خلیفہ اول فرماتے ہیں یہ بخاری کی روایت ہے۔مولوی محمد احسن صاحب نے بھی اس کے متعلق اپنی کتاب میں کچھ