خطبات محمود (جلد 28) — Page 324
خطبات محمود 324 سال 1947ء آپ زندہ ہیں۔مگر یوں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لڑکی کو دیکھا ہو ا نہیں۔اُس وقت امتہ الحی مرحومہ کی یاد کی وجہ سے میرے دل میں کچھ رقت سی آتی ہے اور یہ مضمون میرے دل میں آتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول جو اپنی لاتیں لٹکائے بیٹھے ہیں میں اس لڑکی کو ساتھ لے جا کر آپ کی لاتوں کے درمیان پیروں میں بٹھا دونگا اور کہونگا کہ یہ آپ کی نواسی ہے، اس کو دعا دیں۔جب میں نے لڑکی کی طرف دیکھا تو اس نے چار پائی پر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔ایک رکعت ۲۱ نے کھڑے ہو کر پڑھی ہے اور ایک رکعت اس نے بیٹھ کر پڑھی ہے۔یہ یاد نہیں رہا کہ پہلی رکعت اس نے کھڑے ہو کر پڑھی ہے اور دوسری بیٹھ کر پڑھی ہے یا دوسری رکعت کھڑے ہو کر پڑھی ہے اور پہلی رکعت بیٹھ کر پڑھی ہے۔اس وجہ سے میں نے جو ارادہ کیا تھا وہ میں پورا نہ کر سکا۔پھر میں اٹھ کر باہر چلا گیا۔وہاں کچھ لوگ مجھے ملے ہیں جو ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے فوجی ہوتے ہیں۔تین آدمی ہیں۔وہ مریم صدیقہ کے متعلق جو میری بیوی ہیں کہتے ہیں کہ ان سے کہہ دینا اگر روپیہ کی ضرورت ہو تو روپیہ آ گیا ہے۔اُس وقت خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ میری بیوی نے اپنے پاس امانتیں رکھی ہوئی ہیں جیسے بعض لوگ دوسروں کی امانتیں اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔میں اندر گیا تو دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول چار پائی سے اتر کر زمین پر بیٹھے ہیں ، دری بچھی ہوئی ہے۔تین عورتیں آپ کے آگے بیٹھی ہیں اور آپ غالباً بخاری کا درس دے رہے ہیں۔ایک تو مریم صدیقہ ہے اور دوسری دو عورتوں کے متعلق میں نہیں کہ سکتا کہ آیا وہ امتہ العزیز اور امتہ القیوم ہی ہیں یا گھر کی کوئی اور مستورات ہیں۔میں یہ دیکھ کر ایک طرف ہو گیا۔کچھ دیر پڑھانے کے بعد ایک چیز سامنے لائی گئی ہے۔وہ چیز ایسی ہے جیسے گھانس ہوتا ہے زرد رنگ کا۔اور خشک گھاس ہے۔اس کی جڑ چھوٹی سی ہے مگر پودے کی جو شاخیں ہیں وہ نو نو دس دس انچ کی ہیں اور نہایت باریک ہیں۔ایسی باریک جیسے خس 1 کا گھاس ہوتا ہے مگر خس کی نسبت زیادہ سخت ہیں۔مریم صدیقہ ان کو نکال نکال کر حضرت خلیفہ اول کے سامنے رکھتی جاتی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی حدیث کے ذکر میں مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی کی کسی کتاب کا حوالہ بھی پڑھا گیا ہے اور اس کی تھی تشریح کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اول اپنے شاگردوں کو وہ گھاس دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔اُس وقت حضرت خلیفہ اول نے مریم صدیقہ اور دوسری مستورات سے