خطبات محمود (جلد 28) — Page 326
خطبات محمود 326 سال 1947ء لکھا ہے اور اس کے مطابق یہ گھاس ہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مہاراجہ پٹیالہ سے یہ معاملہ ہوگا۔ہاں مولوی محمد احسن صاحب کی کتاب کا نام مجھے پوری طرح یاد نہیں رہا۔خیال ہے کہ اس کا نام شمس بازغہ لیا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ شمس بازغہ کوئی ان کی کتاب ہے بھی یا نہیں۔شمس بازغہ کے معنی بھی چمکنے والے سورج کے ہیں۔اور محمد احسن بھی اچھا نام ہے۔محمد کے معنی ہیں تعریف والا اور کی احسن کے معنی ہیں نہایت اچھا۔اور سچی بات یہ ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے احمدیت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سچا پیغام ہے۔اگر انبیاء کی سنت کے مطابق ہماری جماعت پر بھی کوئی عارضی زوال آجائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے گھر بار سے جدا ہونا پڑا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے انہیں فلسطین میں بسنا پڑا۔حضرت نوح کا مقام تباہ ہو گیا اور انہیں طوفان میں کشتی کے ذریعہ دور ایک مقام پر جانا پڑا۔حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر لڑکا یا گیا۔اس کے بعد مارے نزدیک تو وہ صلیبی موت سے بچ کر کشمیر کی طرف چلے گئے اور غیر احمدیوں کے نزدیک آسمان پر چلے گئے۔پھر ان کی جماعت پر مظالم ہوئے اور وہ جزیرہ سائپرس میں چلے گئے۔پھر مظالم ہوئے تو وہ روما چلے گئے۔پھر بھاگے تو مصر میں آئے۔مصر میں مظالم ہوئے تو پھر روما بھاگ گئے۔پھر روما میں مظالم ہوئے تو وہ صقلیہ میں آگئے جسے اب مسلی کہتے ہیں۔اس طرح متواتر تین سو سال تک اس جماعت کو اپنے مرکز بدلنے پڑے۔مگر وہ جماعت جس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان میں کمزور تھی برابر اپنے مذہب کی تبلیغ اور اس کی اشاعت میں لگی رہی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان میں کمزور بھی تھے لیکن عام طور پر سی جماعت نے اپنے ایمان کو قائم رکھا اور شاندار قر بانیاں کیں۔میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت نے چھوٹی چھوٹی ترقیات کو دیکھ کر جو در حقیقت ایسی ہی تھیں جیسے طالب علم کو شاباش کہ دیا جاتا ہے یہ سمجھ لیا تھا کہ انہوں نے کامیابی حاصل کر لی۔کسی اخبار نے ہمارے سلسلہ کی تعریف کر دی یا کسی کتاب میں احمدیت کا ذکر چھپ گیا یا کہیں چند لوگ احمدی ہو گئے تو اس کا نام انہوں نے کامیابیاں رکھ لیا اور سمجھ لیا کہ جو مصائب پہلے انبیاء کی جماعتوں کو پہنچے ہیں وہ ہمیں نہیں پہنچیں گے۔حالانکہ میرے پرانے خطبات موجود ہیں۔تم ان کو پڑھ کر دیکھ لو میں نے متواتر اور بار بار کہا تھا کہ جو تکالیف پرانے انبیاء اور انکی جماعتوں کو پہنچی ہیں جب تک وہ تکالیف تمہیں نہیں پہنچیں گی اُس وقت تک تمہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔