خطبات محمود (جلد 28) — Page 127
خطبات محمود 127 سال 1947ء روپیہ جمع ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کہ اگلے سال کوئی تحریک کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے سال اس سے بہت بڑھ کر قر بانی پیش کرنی پڑے۔بعض لوگ نادانی سے یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ تم پچھلے سال کی قربانی کو بڑی قربانی قرار دیتے تھے مگر جب وہ قربانی کر دی گئی تو اب پھر بڑی قربانی کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔اس می کے متعلق میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے کسی قربانی کو بھی ہم بڑا نہیں کہہ سکتے اور کوئی مقام ایسا نہیں جس پر ہم کھڑے ہو کر یہ کہ سکیں کہ ہم نے بہت بڑی قربانی کر دی۔اصل میں یہ چیزیں نسبتی ہوتی ہیں۔جہاں ہم پچھلے سال تھے اس کے لحاظ سے گزشتہ سال کی قربانی ہی بڑی تھی۔اور جہاں ہم اب ہیں اس سے اوپر کی قربانی اب ہمارے لئے بڑی ہے۔ورنہ ہمارا خدا تو غیر محدود ہے اور غیر محدود ہستی کو ملنے کے لئے محدود قربانیاں جی کیونکر بڑی قربانیاں کہلا سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ تم ہم سے یہ دعا کیا کرو کہ رَبّ زِدْنِي عِلْمًا 4 اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام عمر یہ دعا مانگتے رہے۔تو کیا تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی نعوذ باللہ بڑے ہو کہ تم کسی قربانی مالی کے متعلق کہہ دو کہ اس سے بڑی قربانی نہیں ہو سکتی۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے ہوا اور یہی تمہارا مقصد ہے تو تمہیں ہر قدم پر زیادہ سے زیادہ قربانی پیش کرنی ہو گی۔اس وقت کے لئے بڑی قربانی یہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آئندہ کے لئے بڑی قربانی کونسی ہوگی۔مسیح ناصری علیہ السلام جس کی قوم کا تم مضحکہ اُڑاتے ہو اور جس کے متعلق کہتے ہو این اس مریم کے ذکر کو چھوڑو سے بہتر غلام احمد ہے 5 اس میچ کے حواریوں نے ایسی قربانیاں پیش کیں کہ دنیا نے اُن کا نام فقیر رکھ دیا۔یہ نہیں کہ وہ ابتدا سے ہی مفلس تھے بلکہ وہ بھی صاحب جائیداد تھے لیکن انہوں نے اس طرح قربانیاں کیں کہ دنیا کی نگاہوں میں وہ فقیر ہو گئے۔لیکن ہمارا کام اُن سے بڑھ کر ہے۔اور ہمارا امام بھی ان کے امام سے بڑھ کر ہے۔اس لئے قربانی کے میدان میں ان سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔اور