خطبات محمود (جلد 28)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 477

خطبات محمود (جلد 28) — Page 128

خطبات محمود 128 سال 1947ء ہر ایک آدمی جس نے جائیداد وقف کی ہوئی ہے وہ جائیداد کا سواں حصہ اور جس نے آمد وقف کی ہوئی ہے وہ ایک ماہ کی آمد دے۔جو لوگ ابھی تک شامل نہیں ہوئے ان کے لئے میں نے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔تمام وہ لوگ جنہوں نے ابھی تک واقفین جائیداد میں اپنے نام پیش نہیں کئے ان کو اس عرصہ میں اپنے نام پیش کر دینے چاہئیں۔ان کا فرض ہوگا کہ وہ چھ ماہ کے اندر اندر کی اپنی جائیداد کا سواں حصہ ادا کریں۔یہ لوگ بھی ثواب میں پہلے لوگوں کے ساتھ شریک ہوں گے لیکن جو لوگ اس ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں اپنی جائیدادیں وقف نہیں کریں گے ہم ان سے 1/2 فیصدی قیمت جائیداد کا لیں گے۔یا 1/2 ماہوار آمد کا جو بھی اِن دونوں میں سے زیادہ ہو۔( یا درکھنا چاہیئے کہ قاعدہ یہ ہے کہ اگر کسی کی جائیداد بھی ہو اور ماہوار آمد بھی خواہ تجارت سے خواہ نوکری سے۔اس کی ماہوار آمد اگر جائیداد کی قیمت کے 1/10 سے زیادہ ہو تو اسے ماہوار آمد دینی چاہیئے اور اگر جائیداد کا 1/100 ماہوار آمد سے زیادہ ہے تو وہ دینا چاہیئے۔اور جس سے ہو سکے وہ بے شک دونوں دے۔مگر بہر حال جو زیادہ ہو وہ دے۔کم والا پہلو اختیار نہ کرے۔اور اگر واقف جائیداد نہ ہو تو 1/2 آمد ماہوار کا یا 1/200 جائیداد کی قیمت کا جو بھی زیادہ ہو دے۔) اور یادر ہے کہ جو جائیداد یا آمد وقف نہیں کرتے وہ اس انعام میں شامل نہیں ہو سکتے جو کہ پہلوں کے لئے ہے۔وہ انعام اُنہی لوگوں کے لئے ہے جنہوں نے جائیداد میں یا آمد نہیں وقف کر دی ہیں۔یا اس ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں اپنے نام پیش کر دیں گے۔باقی 1/2 آمد ماہوار یا 1/2 قیمت کا جائیداد کی دے سکتے ہیں۔بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ لوگ اس تحریک سے بھاگیں گے۔لیکن میرا تجربہ اس کے بالکل برعکس ہے۔پرسوں سے لوگ مجھے رقعوں پر رفعے لکھ رہے ہیں کہ اگر اب ہم شامل ہو جائیں تو ہم کیوں ایک فیصدی نہیں دے سکتے یا کیوں ہم ایک ماہ کی آمد وقف نہیں کر سکتے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت میں ایمان کی کمی نہیں ہاں تربیت کی کسی حد تک کمی ہے۔اور میں اُس کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔مگر ہماری ان کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ جماعت کے ایمان کو بڑھاتا جا رہا ہے۔چندے کی کوئی تحریک ایسی نہیں جسے نا کام کہا جا سکے۔یا جس سے لوگوں نے بچنے کی کوشش کی ہو۔میں نے ان پوچھنے والوں کو کہ دیا ہے کہ تم لوگ بھی ڈیڑھ ماہ کے اندراندر شامل ہو کر جائیداد کا ایک فیصدی یا ایک ماہ کی آمد دے سکتے ہو اور یہی میرا