خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 502

*1946 502 خطبات محمود میں امتیاز قائم کرنے والی ہے۔پس کوشش کرو کہ تم بھی رسول کریم صلی علیم کے نقش قدم پر چلنے والے بن جاؤ اور کسی کے علم سے مرعوب مت ہو۔ہر بات جو قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے وہ جھوٹی ہے۔تم اس کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کرو۔یہ تین چیزیں قرآن کریم نے بیان کی ہیں ان کو مد نظر رکھے بغیر تم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اول یہ کہ اللہ تعالی نَذِيرٌ لِلْعَالَمِینَ ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارا انذار ہر قوم کی طرف ہو اور ہر ہندو، سکھ، بدھ اور زرتشتی تمہارا مخاطب ہو۔اور تم اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں کو جو رستہ بھول چکے ہیں اللہ تعالیٰ کے گھر میں لے آؤ۔اگر ایک ماں کے تین بچے گم ہو جائیں اور ان میں سے دو کو تم واپس لے آؤ اور تیسرے کو دھتکار دو۔تو ان دو کے لانے پر وہ تمہیں انعام نہیں دے گی اور تم پر خوش نہیں ہو گی بلکہ وہ کہے گی کہ وہ تیسر ا بھی مجھے اسی طرح پیارا ہے جس طرح یہ دونوں پیارے ہیں۔اسی طرح اگر تم دنیا کی دو ارب آبادی میں سے ایک ارب ننانوے کروڑ ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے کو واپس لے آتے ہو لیکن ایک آدمی کو چھوڑ دیتے ہو اور اُس کی طرف توجہ نہیں کرتے تو خدا تعالیٰ تمہیں اس ایک کے چھوڑنے پر یہ کہے گا کہ وہ بھی میرا بندہ تھا۔تم نے اسے واپس لانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن کریم تمہارے دلوں پر اور تمہارے دماغوں پر حاوی ہو۔چونکہ قرآن کریم کے لئے فتح مقدر ہے اس لئے جب تم اپنے وجود کو قرآن کریم کے ساتھ وابستہ کر دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی فتح عطا کرے گا۔تیسری چیز یہ ہے کہ جب تک تم رسول کریم صلی ال یکم کی نقل نہیں کرتے اور آپ کے نقش قدم پر نہیں چلتے اور جب تک تم چھوٹے محمد صلی اللہ کی) نہیں بنتے اس وقت تک تمہاری تبلیغ میں اثر پیدا نہیں ہو سکتا۔“ (الفضل 28 اکتوبر 1946ء) 1: الفرقان: 2 2 بچست موزوں ، ٹھیک، درست 3: متی باب 5 آیت 39 تا 41 4: متی باب 10 آیت 34 5: لو قاباب 22 آیت 36