خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 501

*1946 501 خطبات محمود بعض باتیں کیں۔میں نے اُن پر جرح کی تو وہ جواب نہ دے سکی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ مجھے کہنے لگی کہ کیا آپ ایم۔اے ہیں؟ میں نے کہا میں پرائمری فیل ہوں۔پھر اس نے پوچھا کیا آپ نے سیلف سٹڈی (Self Study) کی ہے؟ میں نے کہا کہ میں تو پرائمری فیل ہوں سیلف سٹڈی کیا کر سکتا ہوں۔پھر گفتگو شروع ہوئی۔کچھ دیر کے بعد پھر وہ کہنے لگی کیا آپ ولایت سے پڑھ کر آئے ہیں؟ میں نے کہا میں تو پرائمری فیل ہوں میرے ولایت جا کر پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔پھر کچھ دیر کے بعد کہنے لگی کہ آپ وکیل ہیں؟ میں نے کہا وکیل تو میرے دوست ہیں جن کے گھر میں میں ٹھہر اہوا ہوں۔پھر وہ پریشان ہو کر کہنے لگی کہ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آپ پرائمری فیل ہیں۔وہ طالب علم پروفیسر قاضی اسلم صاحب کی شاگر د تھی اُس سے ملنے کے بعد میں نماز مغرب کے لئے باہر گیا۔قاضی صاحب مجھے ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔میں نے اُن سے مذاق کے طور پر کہا آپ کی ایک شاگرد مجھے ملنے آئی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ پڑھائی اچھی نہیں کراتے۔وہ طالب علم جو مجھے ملنے آئی تھی اُس نے گفتگو کے شروع میں مجھ سے پوچھا کیا آپ ایم۔اے ہیں؟ میں نے کہا نہیں میں تو پرائمری فیل ہوں۔کچھ دیر بعد پھر اس نے پوچھا کہ کیا آپ ولایت سے پڑھ کر آئے ہیں؟ میں نے اُسے کہا میں پہلے بتا چکا ہوں کہ میں پرائمری فیل ہوں۔کچھ دیر کے بعد پھر اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ وکیل ہیں ؟ کیا آپ اپنے شاگردوں کو یہی کچھ پڑھایا کرتے ہیں کہ وہ بات کرنے والے کی بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔قاضی صاحب نے مجھ سے اُس کا نام پوچھا تو میں نے انہیں نام بتایا۔اس کا نام سن کر کہنے لگے کہ وہ تو میری چوٹی کی طالب علم ہے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ خواہ کوئی سیاست کا ماہر یا فلسفے کا عالم یا علم النفس کا جاننے والا میرے ساتھ گفتگو کرے، ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ میری مدد کرتا ہے اور کوئی سوال میرے لئے ایسا نہیں ہوتا جس کا میں جواب نہ دے سکوں۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی ال نیم کو جب تمام دنیا کا نذیر بنا کر بھیجا تو آپ کو سب سے زیادہ علم دیا حالانکہ آپ اُمّی تھے، لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن مبعوث کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب قسم کے علوم عطا کئے اور ایک ایسی تعلیم آپ کو عطا کی جو حق و باطل