خطبات محمود (جلد 27) — Page 305
*1946 305 خطبات محمود سینکڑوں نئی درخواستیں خدا تعالیٰ کے فضل سے آچکی ہیں اور بہت سے نئے مبلغ رکھے گئے ہیں لیکن پھر بھی مبلغین کی ہمیں ہمیشہ ضرورت رہے گی۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ سلسلہ کی اس ضرورت کو مدرسہ احمدیہ، جامعہ احمدیہ ، واقفین تحریک جدید، تعلیم الاسلام کالج کے طلباء اور بیرونی کالجوں کے احمدی طالب علم بڑی آسانی سے پورا کر سکتے ہیں۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں اور جلد از جلد اس کام کا اپنے آپ کو اہل ثابت کریں۔لیکن اس کے علاوہ اور ضروریات کے لئے بھی ہمیں روپیہ کی ضرورت ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت میں ابھی چندہ کی بہت گنجائش پائی جاتی ہے اور جتنا چندہ اس وقت جماعت دیتی ہے اگر وہ صحیح طور پر کوشش کرے تو اس سے دُگنا چندہ دے سکتی ہے۔اگر ہمارے کمزور اپنی کمزوری کو چھوڑ دیں، ہمارے شست اپنی شستی کو چھوڑ دیں اور ہماری جماعت کے مخلص اور زیادہ قربانی کرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو بڑی آسانی سے موجودہ جماعت کے افراد سے ہی دُگنا چندہ اکٹھا ہو سکتا ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ اگلے دو تین سال تک کے اخراجات کا بوجھ موجودہ جماعت ہی برداشت کر سکتی ہے۔پھر اس کے ساتھ ہی اگر تبلیغ پر زور دیا جائے تو دو تین سال کے بعد نئے آدمیوں کے شامل ہو جانے کی وجہ سے ہمارے اندر وہ طاقت پیدا ہو جائے گی جو اب نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص جوش سے تبلیغ کرے اور اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرے بلکہ اگر ہو سکے تو اپنی طاقت سے بڑھ کر قربانی کرنے کی کوشش کرے اور جماعت کی تعداد کو تبلیغ پر زور دے کر زیادہ سے زیادہ بڑھائے۔دنیا میں کنویں کبھی کام نہیں دے سکتے جب تک آسمان سے بارش نازل نہ ہو۔اسی طرح کسی جماعت کا اپنا چندہ اُس وقت تک کافی نہیں ہو سکتا جب تک باہر سے بھی اس کے چندہ کے اضافہ کی صورت پیدا نہ ہو۔جس طرح کنویں بغیر بارشوں کے قائم نہیں رہ سکتے اسی طرح کوئی جماعت بغیر تبلیغ کے زندہ نہیں رہ سکتی، چاہے کسی جماعت کے دس کروڑ افراد ہوں یا دس ارب۔جب تک اس میں باہر سے نئے آدمی آگر شامل نہ ہوں اُس وقت تک اس کا ایمان مضبوط نہیں ہو سکتا۔پس اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے بھی تبلیغ ایک نہایت ضروری چیز ہے۔علاوہ اس