خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 304

*1946 304 خطبات محمود صا الله سة قیامت کے دن لوگوں پر حجت تمام فرمائے گا اور مالک کو بطور شاہد اُن کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمائے گا کہ میں نے تم کو اور مالک کو الگ الگ جسم نہیں دیئے تھے۔تم کو اور مالک کو الگ الگ قسم کی قوتیں نہیں دی تھیں، تم کو اور مالک کو الگ الگ قسم کے اختیارات نہیں دیئے تھے۔جو کچھ میں نے مالک کو دیا تھا وہی تم کو دیا تھا۔مگر دیکھو! اس نے کیا کام کیا اور تم نے کیا کیا۔عذر انسان بنایا ہی کرتا ہے مگر کیا ہر عذر قبول ہو جاتا ہے؟ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ) وَ لَوْ الْقَى مَعَاذِيرَة - 6 انسان عذر کرے گا مگر وہ سزا سے بچ نہیں سکے گا۔چاہے ہزاروں عذر کرے کیونکہ ہر عذر اس قابل نہیں ہو تا کہ اسے قبول کیا جائے۔پس مت خیال کرو کہ تم اپنے عذروں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو خوش کر سکتے ہو۔مت سمجھو کہ تم اپنے عذروں کے ذریعہ سے محمد صلی می ریم کے سامنے اپنی گردن اونچی کر سکتے ہو۔اگر تمہارے اندر مالی اور جانی قربانی کا وہ مادہ نہیں جس کی اس زمانہ میں ضرورت ہے تو تم نہ خدا کو منہ دکھانے کے قابل سمجھے جا سکتے ہو اور نہ آئندہ آنے والی نسلوں میں عزت کے ساتھ یادر کھے جانے کے مستحق ہو سکتے ہو۔قربانیوں کے دن قریب سے قریب تر آ رہے ہیں اور خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے مختلف ممالک میں ایسے دل تیار کر رہا ہے جو احمدیت کی آواز سننے کے لئے بیقرار ہیں۔آخر وہ کونسی طاقت ہے جو مختلف ملکوں میں لوگوں کو اکسار ہی ہے کہ جاؤ اور قادیان سے مبلغ مانگو۔پھر کیا ہو سکتا ہے کہ ہم ان ممالک میں اپنے مبلغ نہ بھیجیں ؟ یا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے مبلغ تو بھیجیں لیکن ان کو خرچ نہ بھیجیں ؟ ہم اگر اس وقت اپنی انتہائی طاقت صرف نہیں کر دیتے تو یقیناً ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوں گے کہ نہ صرف آئندہ نئے مشن قائم کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہو گی بلکہ پہلے مشن بھی ہمیں مجبوراً بند کرنے پڑیں گے۔تحریک جدید کی مالی حالت اتنی کمزور ہے کہ اس کا قیاس کر کے بھی ایک مخلص انسان کا دل گھٹنے لگتا ہے کیونکہ تحریک جدید کے چندہ سے اس کے اخراجات کا بجٹ زیادہ ہے۔جس قدر آمد ہوتی ہے خرچ اس سے زیادہ ہو رہا ہے اور ابھی بہت سارا پچھلا قرضہ بھی باقی ہے جو ادا ہونے والا ہے۔اسی طرح مبلغوں کی بھی ابھی کمی ہے۔گو جب سے میں نے اس بات پر زور دیا ہے اصل مسودہ میں اس جگہ عبارت نہیں پڑھی جاتی۔