خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 174

*1946 174 خطبات محمود رہیں۔چونکہ وہ احمد یہ نظام کو اس کے خلاف پاتے ہیں اس لئے وہ اسلام کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔پس آج میں ایک دفعہ پھر جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر احمدیت ایک اچھی چیز ہے، اگر احمدیت کی اتباع فائدہ بخش ہے اور اگر احمدیت کی اتباع انسان کو دین و دنیا میں سر خرو کرنے والی ہے تو امراء اور در میانی طبقہ کے لوگ مجھے بتائیں کہ وہ اپنے بچوں کو اس عظیم الشان خدمت سے محروم کر کے ان کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں یا دوستی؟ اور کیا وہ اپنے بچوں کو اس طرف نہ بھیج کر اپنے ساتھ اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ محبت کر رہے ہیں یا ان پر خطر ناک ظلم کر رہے ہیں ؟ اگر احمدیت ایک اچھی چیز ہے اور اگر احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو وقف کرنا خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے تو یقیناً قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے حضور وہ لوگ سر خرو ہوں گے جنہوں نے اپنے بچے خدمت دین کے لئے پیش کئے ہوں گے اور یقینا وہ بچے بھی سر خرو ہوں گے جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے وقف کی ہوں گی۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کرنے میں کو تاہی سے کام لیا ہو گا وہ خدا تعالیٰ کے حضور شر مندہ ہوں گے۔اسی طرح وہ لوگ بھی شرمندہ ہوں گے جنہوں نے نہ خود دین سمجھنے کی کوشش کی اور نہ اپنی اولادوں کو دین کی خدمت کے لئے وقف کیا۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر امراء اس طرف توجہ کریں تو انہیں بہت کچھ سہولت بھی ہے۔وہ اپنی جائیداد کا کچھ حصہ ایسی اولاد کے لئے وقف کر سکتے ہیں۔کلکتہ کے ایک احمدی دوست ہیں جنہوں نے مجھے سے ذکر کیا کہ میرا ایک بچہ جس کو میں نے خدمتِ دین کے لئے پیش کیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اس کے لئے اپنی پچھتر ہزار کی ایک جائیداد وقف کر دوں تا کہ اس کی آمد اس کے کام آتی رہے۔میں نے کہا یہ بہت عمدہ بات ہے۔آپ ایسا ضرور کریں لیکن میرے نزدیک زیادہ بہتر یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ آپ یوں کریں کہ اپنی اس جائیداد کو ایک بچہ کے لئے وقف کر دیں۔آپ اس جائیداد کو اس رنگ میں وقف کریں کہ آئندہ میری اولاد میں سے جو بھی اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرے گا، اس جائیداد کی آمد اس کے لئے وقف رہے گی۔