خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 173

خطبات محمود 173 *1946 اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء کی جماعت غرباء کی جماعت ہوتی ہے مگر اس کے صرف اتنے ہی معنے ہوتے ہیں کہ انبیاء کی جماعتوں میں غرباء کثرت سے شامل ہوتے ہیں۔یہ معنے نہیں ہوتے کہ امراء ان میں شامل ہی نہیں ہوتے۔چنانچہ دیکھ لو۔رسول کریم صلی للی کم پر جو لوگ ایمان لائے وہ محض غرباء میں سے نہیں آئے بلکہ امراء میں سے بھی آئے۔چنانچہ حضرت ابو بکر بھی آئے ، حضرت عثمانؓ بھی آئے اور یہ دونوں مالدار تھے۔اسی طرح حضرت عمرؓ ย بھی مالدار خاندان میں سے تھے۔یہی حال حضرت طلحہ اور زبیر کا تھا کہ وہ بھی اچھے مالدار خاندانوں میں سے تھے۔اسی طرح غرباء بھی آئے، عورتیں بھی آئیں، بچے بھی آئے ، بوڑھے بھی آئے، جو ان بھی آئے۔غرض سب کے سب آئے جو ثبوت تھا۔اس بات کا کہ یہ کوئی خاص قسم کی پولٹیکل باڈی (Political - Body) نہیں تھی۔اگر پولٹیکل باڈی ہوتی تو انہی کی ہمدردی کھینچتی جن کو فائدہ پہنچانے کے لئے وہ کھڑی ہوئی تھی۔مگر چونکہ یہ مذہب تھا اور مذہب کا تعلق ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے اس لئے اس میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں اور عورتیں بھی، امیر بھی شامل ہوتے ہیں اور غریب بھی، عالم بھی شامل ہوتے ہیں اور جاہل بھی، آزاد بھی شامل ہوتے ہیں اور غلام بھی۔کیونکہ مذہب کا تعلق نہ امیر سے ہوتا ہے نہ غریب سے۔نہ بوڑھے سے ہوتا ہے نہ جو ان سے۔نہ آزاد سے ہوتا ہے نہ غلام سے ، نہ عالم سے ہوتا ہے نہ جاہل سے بلکہ سب سے اس کا تعلق ہوتا ہے اور ہر شخص خواہش رکھتا ہے کہ میں اس میں داخل ہو کر نجات حاصل کروں۔مگر جو قومی جماعت ہوتی ہے وہ چونکہ مخصوص لوگوں سے تعلق رکھتی ہے اس لئے سب لوگ اس میں شامل نہیں ہوسکتے۔احمدیت بھی اسی وقت دنیا پر اپنار عب اور اثر پیدا کر سکتی ہے جب اس کا ہر طبقہ اپنے ایمان اور اخلاص کا ثبوت دے۔محض غریبوں کا اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کر دینا یا ان کا اپنی اولادوں کو اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کر دینا یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتا کہ احمدیت نے ہر طبقہ پر اپنا اثر ڈال لیا ہے۔لازماً اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہماری جماعت کے امراء احمد یہ نظام کی خوبی کے پوری طرح قائل نہیں۔وہ اپنے پرانے نظام کے ہی دلدادہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پلاؤ کھاتے بیٹے ہمیشہ پلاؤ ہی کھاتے رہیں اور ان کے مخمل پہنے والے بچے ہمیشہ مخمل ہی پہنتے