خطبات محمود (جلد 27) — Page 175
*1946 175 خطبات محمود الله اگر آپ اس طرح جائیداد کو وقف کریں گے تو اس کا فائدہ صرف ایک نسل تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ آپ کی آئندہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔اب دیکھو یہ کیسا اچھا طریق ہے۔جو اس دوست نے اختیار کیا اور اگر ایک شخص ایسا کر سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ دوسرے لوگ بھی ایسانہ کریں۔میں نے دیکھا ہے حضرت خلیفہ اول بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ آخر وجہ کیا ہے کہ اگر کسی کے دو بیٹے ہوں اور ان میں سے ایک دنیا کمائے تو وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ اپنے اس دوسرے بھائی کو نہ دے جس نے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا ہوا ہو۔رسول کریم صلی نیلم کے زمانہ میں اس کی بڑی کثرت سے مثالیں ملتی ہیں یہاں تک کہ سب انصار نے یکدم اپنی ساری جائیدادیں مہاجرین کو پیش کر دیں اور انہیں اپنے ساتھ شریک کر لیا۔رسول کریم علی یکم جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے انصار سے فرمایا کہ اے انصار ! مہاجرین یہاں اجنبی ہیں، باہر سے آئے ہوئے ہیں اور یہاں ان کے کوئی رشتہ دار نہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تمہیں آپس میں بھائی بھائی بنادوں۔چنانچہ آپ نے ایک ایک انصاری کو لیا اور اسے ایک ایک مہاجر کے ساتھ وابستہ کر دیا اور کہا کہ لواب تم بھائی بھائی بن گئے ہو۔1 انہوں نے بھی اس اخوت کو اتنی اہمیت دی کہ بعض نے اصرار کرنا شروع کر دیا کہ آؤ ہم اپنی جائیدادیں آپس میں تقسیم کر لیں کیونکہ جب ہم آپس میں بھائی بھائی بن چکے ہیں۔تو اب ان جائیدادوں میں صرف ہمارا حصہ ہی نہیں بلکہ تمہارا حصہ بھی ہے۔ایک شخص نے تو حد ہی کر دی وہ اپنے مہاجر بھائی کو گھر لے گیا اور کہا کہ میری دو بیویاں ہیں اور تم ابھی کنوارے ہو۔ان دونوں میں سے جو بھی تمہیں پسند ہو میں اس کو طلاق دینے کے لئے تیار ہوں۔تم اس سے شادی کر لو۔2 یہ الگ بات ہے کہ اس شخص کا یہ جوش انتہائی حد تک کو پہنچاہوا تھا۔نہ مہاجر نے ایسا کیا اور نہ رسول کریم صلی الی یکم نے اسے ایسا کرنے کے لئے کہا۔مگر یہ بات ان کے اخلاص پر تو دلالت کرتی ہے۔یہ بات بتاتی ہے کہ وہ کس طرح آپس میں بھائی بھائی بن گئے تھے اور پھر کس طرح انہوں نے اپنی جائدادوں میں دوسروں کو شریک بنالیا۔اگر بغیر کسی جسمانی رشتے کے انصار اپنے مہاجر بھائیوں کو آدھا آدھا مال دینے کے لئے تیار تھے تو کیا ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والے بیٹے ایسا نہیں کر سکتے کہ ان میں سے جو شخص دنیا کما رہا ہو وہ اپنی الله سة