خطبات محمود (جلد 27) — Page 156
*1946 156 خطبات محمود اپنی قوم کو گوہر قسم کے علوم کی تعلیم دی مگر اس کی نگرانی پادریوں کے ہاتھ میں رکھی۔لیکن یہ نقطہ نظر مسلمانوں سے اوجھل رہا اس لئے جلد ہی مسلمان ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ہمارے سامنے مسلمانوں اور عیسوی امت کا کام موجود ہے۔اب ہمارا فرض ہے کہ ان دونوں کے نیک حصوں کو لے کر ان سے فائدہ اٹھائیں اور ان کی غلطیوں سے بچیں۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اعلیٰ درجے کا طریق تعلیم یہ ہے کہ تعلیم دنیوی، دینی علماء کے ہاتھوں سے ہو تا کہ مذہب سے لگاؤ قائم رہے۔لوگوں نے تو انجینئر بننا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ انجینئرنگ کی تعلیم دینے والا مولوی یا واقف زندگی نہ ہو۔ہاں اگر ہم یہ کہیں کہ تم نے انجینئر نہیں بنا تو وہ ضرور ہم سے اختلاف کریں گے کہ انجینئر نگ میں کیا قباحت ہے کہ تم ہمیں انجینئر نہیں بننے دیتے۔لیکن اگر ہم کہیں کہ انجینئر تو بنو لیکن ایک واقف تحریک جدید سے پڑھ کریا ایک عالم دین سے پڑھ کر۔تو یقیناً ایک کمزور سے کمزور ایمان والا بھی اس سے تعلیم حاصل کرنے سے انکار نہیں کرے گا اور یقینی طور پر جو تعلیم وہ حاصل کرے گا اس کے نتیجہ میں اس کا دین محفوظ رہے گا۔پس اب جب کہ بیداری پیدا ہو چکی ہے اور جب کہ تعلیم کا احساس پیدا ہو چکا ہے اور جب کہ ہماری جماعت کو ایسے ذرائع حاصل ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا سکے اگر ہمارے پاس کالج نہ ہو اور اعلیٰ درجے کا کالج نہ ہو اور انتہائی تعلیم دینے والا کالج نہ ہو تو ہمارا قدم دوسری اقوام کی نسبت پیچھے رہ جائے گا۔مثلاً ایک شخص انگلستان جانے کا ارادہ کرے اور کہے کہ میں لنگڑے گدھے پر سوار ہو کر انگلستان جاؤں گا تو ہر دیکھنے والا اور ہر سننے والا اس پر ہنسے گا اور اسے ایک تماشہ سمجھے گا۔لوگ کہیں گے یہ اول تو راستہ میں ہی مر جائے گا وہ اور اگر پہنچے گا بھی تو بڑھا ہو کر۔کیونکہ جن راستوں سے ایک گدھا انگلستان پہنچ سکتا ہے و سات آٹھ ہزار میل کا ہے۔ایک لنگڑا گدھا دن میں زیادہ سے زیادہ اسے پانچ چھ میل لے جائے گا اور اگر وہ روزانہ بھی سفر کرے گا تو بیس دنوں میں زیادہ سے زیادہ سو میل چلے گا۔سو دنوں میں پانچ سو میل ، دو سو دنوں میں ہزار میل اور سولہ سو دنوں میں آٹھ ہزار میل طے کرے گا۔اگر وہ پانچ سال متواتر چلتا رہے تب جا کر انگلستان پہنچے گا۔لیکن انسان تھک بھی جاتا ہے ، بیمار بھی ہوتا ہے اس لحاظ سے پانچ سال کی بجائے پندرہ سال سمجھنے چاہئیں۔پس اس زمانے میں اگر