خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 155

*1946 155 خطبات محمود اور چونکہ وہ مخالف ماحول میں رہے اس لئے مذہب کی محبت ان کے دلوں میں نہ رہی۔ایک طرف اگر مولویوں کا گروہ مدارس سے نکل کر مذہبی تعلیم دیتا تھا تو دوسرا تعلیم یافتہ گروہ مذہب کے خلاف لوگوں کو اکساتا تھا۔اس طرح ایک ہی وقت میں دو دریا چل رہے تھے جو باہم ملنے کا نام تک نہ لیتے تھے۔لیکن عیسائیت کا ایک ہی دریا چل رہا تھا۔انہی کالجوں میں سے نکلنے والے پادری کہلاتے تھے اور انہی کالجوں میں سے نکلنے والے انجینئر کہلاتے تھے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیت کی تعلیم بھی آخر ناکام رہی مگر اس طرح انہوں نے اٹھارہ سو سال تک اپنے سلسلہ کو ممتد کر لیا لیکن مسلمانوں نے جو طریقہ اختیار کیا اس سے وہ چند سو سالوں میں ہی بگڑ گئے اور دینی اور دنیوی علماء میں لڑائی شروع ہو گئی۔دین کے علماء نے فنون اور حرفے والوں کو کہنا شروع کر دیا کہ تم دہریہ اور دین سے خارج ہو اور حرفت اور صنعت والوں نے مولویوں کو یہ کہنا شروع کر دیا کہ تم قُل اَعُو ذِیئے اور کھڑ کتنے ہو۔غرض ایک دوسرے کا نام رکھنے لگ گئے۔مگر عیسائیت میں یہ بات نہ تھی۔گو آج اٹھارہ سو سال کے بعد الٹی گنگا چلنی شروع ہو گئی ہے لیکن اٹھارہ سو سال تک انہوں نے اس سے گزارہ کیا ہے۔پہلے پادری کالجوں میں جاکر لڑکوں کو عیسائیت کا قائل کیا کرتے تھے مگر اب پادری خود دہر یہ ہونے لگ گئے ہیں مگر ہر چیز میں آخر خرابی تو آہی جایا کرتی ہے۔بہر حال یہ تو نظر آتا ہے کہ عیسائیت میں خرابی پہلے آئی اور اس کی تعلیم کے انتظام میں بعد میں خرابی پیدا ہوئی۔عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بغاوت کہیں پہلے شروع کر دی تھی مگر علماء نے عیسائیت سے بغاوت بہت بعد میں شروع کی۔حضرت عیسی علیہ السلام سے بغاوت کے یہ معنے ہیں کہ مسیحیوں نے سچے مذہب کو چھوڑ دیا مگر عیسائیت سے علماء کی بغاوت کے یہ معنے ہیں کہ جس قسم کا عیسوی مذہب پیش کیا جاتا تھا اس سے علماء بھی منکر ہو گئے۔یہ انکار بہت بعد میں پیدا ہوا لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انکار بہت پہلے پیدا ہو چکا تھا کیونکہ عیسوی تعلیم رسول کریم صلی ا یم کی بعثت سے بھی پہلے بگڑ چکی تھی۔لیکن اس قوم کے علماء اور صناعوں وغیرہ نے عیسوی مذہب کو جس حالت میں بھی وہ تھا کئی سو سال بعد چھوڑا۔بلکہ در حقیقت رسول کریم صلی الی یکم کی بعثت کے بارہ سو سال بعد انہوں نے اس سے انحراف شروع کیا۔یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ انہوں نے