خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 5

*1946 5 خطبات محمود جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف نہیں کیں۔اگر وہ اپنی زندگیاں وقف کریں تو میرے نزدیک وہ سلسلہ کے لئے مفید وجو د ثابت ہو سکتے ہیں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ تبلیغ اسلام کے لئے دس آدمیوں کی ضرورت ہو اور وہ بھی پوری نہ ہو۔اور دوسری طرف جنگ یورپ میں اپنی قوموں کی عزت کو بر قرار رکھنے کے لئے لکھو کھا آدمیوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہو۔اب جبکہ اسلامی جنگ شروع ہوئی ہے تو قدرتی بات ہے کہ باہر سے مانگ پر مانگ آئے گی۔ابھی پیچھے ہی ایک ملک کے مبلغین نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگر ہمیں بارہ مبلغ اور مل جائیں تو دس سال کے اندر اندر ملک کی اکثریت احمدیت میں داخل ہو جائے گی۔وہ تمام قسم کے اخراجات خود برداشت کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔صرف ہم سے کام کرنے والے آدمی مانگتے ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ افریقہ میں ایک لاکھ شلنگ کا ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے کہ جس کی آمد سے ہمارے وہاں کے مبلغ لٹریچر وغیرہ شائع کریں گے۔یہ کتنی بیداری اور کتنا جوش ہے جو اِن ممالک میں احمدیت کے لئے نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے جوش اور اخلاص میں ترقی دے۔آمین دوسری سکیم میں نے وقف تجارت کی جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔ابھی تک اس تحریک میں ساٹھ ستر نوجوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔میرے نزدیک اس میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان ابھی تک فوجوں سے فارغ نہیں ہوئے۔لیکن اس کے باوجود یہ تعداد کم ہے۔اگر یہاں کے لوگ جو فارغ ہیں وہی اپنے آپ کو پیش کرتے تو یہ تعداد سینکڑوں تک پہنچ جاتی۔انہیں دینی فائدہ بھی ہو تا اور وہ دنیوی فائدہ بھی اٹھاتے۔تجارت ایک ایسی چیز ہے جس سے یہ دونوں چیزیں حاصل ہو سکتی ہیں۔جس جگہ پر لاکھوں لاکھ روپیہ ہمارا سالانہ خرچ ہونا تھا اس کی بجائے ہمیں کئی لاکھ روپیہ اس طرح سے مل جائے گا اور تبلیغ بھی ہوتی رہے گی۔تجارت کے لئے رستے گھل رہے ہیں اور دوسرے ممالک کے لوگ ہمیں لکھ رہے ہیں کہ آپ آدمی بھیجیں ہم ان کی ہر قسم کی امداد کریں گے۔اسی طرح ہندوستان کے متعلق بھی ارادہ ہے کہ تجارت کے ذریعہ تبلیغ کے دائرہ کو وسیع کیا جائے۔اگر ہماری یہ سکیم کامیاب ہو جائے اور انشاء اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب ہو گی تو ہمیں مفت میں پانچ ہزار مبلغ