خطبات محمود (جلد 27) — Page 6
*1946 6 خطبات محمود مل جائیں گے۔بجائے اس کے کہ ہم پانچ ہزار مبلغین پر لاکھوں لاکھ روپیہ خرچ کریں۔ان کے ذریعہ ہمیں لاکھوں روپیہ کی آمد شروع ہو جائے گی۔فرض کرو فی مبلغ ہمیں سو روپیہ دینا پڑے تو ایک سال کے لئے ہمیں ساٹھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے۔حالانکہ بعض شہر ایسے ہیں جہاں ایک سو میں گزارہ نہیں ہو سکتا جیسے بمبئی یا کلکتہ ہے۔ایسے شہروں میں تین یا چار سو روپیہ ماہوار خرچ دینا پڑے گا۔لیکن اگر یہی فرض کریں کہ فی مبلغ ایک سو روپیہ ماہوار دیں تو ایک مہینہ کا خرچ پانچ لاکھ روپیہ بنتا ہے اور ایک سال کا خرچ ساٹھ لاکھ روپیہ بنتا ہے۔لیکن اگر ہمارے پانچ ہزار نوجوان تجارتی اصول پر اپنی زندگیاں وقف کریں تو ہمیں یہ ساٹھ لاکھ روپیہ خرچ کرنے کی بجائے پندرہ یا بیس لاکھ روپیہ سالانہ وہ نوجوان بھجوائیں گے۔گویا ایک صورت میں ہمیں پندرہ بیس لاکھ روپیہ کی سالانہ آمد ہوتی ہے اور دوسری صورت میں ہمیں ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ کا خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔کتنی مفید اور جماعت کی مالی حالت کو درست کرنے والی یہ سکیم ہے۔لیکن اس سکیم کی طرف جماعت نے ابھی تک پوری توجہ نہیں کی۔تیسری چیز جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ تعلیم ہے۔میر اتجربہ ہے کہ جب میں کسی چیز کے متعلق تحریک کروں تو اس کے معا بعد اس چیز کی ضرورت محسوس ہونی شروع ہو جاتی ہے۔اب تعلیم کے لحاظ سے اعلیٰ تعلیم والوں کا مطالبہ ہم سے بے انتہاء طور پر شروع ہو گیا ہے۔دو ملک والوں نے لکھا ہے کہ ہمیں بائیس مبلغین دیئے جائیں اور ابھی ان کے علاوہ سترہ اٹھارہ ملک ایسے ہیں جہاں ہمارے مبلغین اب گئے ہیں اور ابھی ان کے مطالبے باقی ہیں۔اس لحاظ سے ہمیں چار پانچ سو مبلغین کی ضرورت ہے۔اور یہ علاقے ایسے ہیں جن میں ایسے مبلغین کی ضرورت ہے جو بی۔اے یا ایم۔اے ہوں۔پھر ہمارے محکمے اتنے وسیع ہو گئے ہیں کہ تین سال کے اندر اندر کارکنوں کی تعداد ڈگئی ہو گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہمیں بہت سے کارکنوں کی ضرورت ہے۔تحریک جدید نے ابھی اپنے آپ کو منظم نہیں کیا۔وقف زندگی کرنے والے نوجوان اس میں اکثر کام کرتے ہیں۔اگر ان کو انہی کاموں پر روک رکھا جائے تو بیر و نجات کے مبلغین میں کمی آجائے گی۔اسی لئے میں نے بار بار تعلیم پر زور دیا ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کو دن بدن تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔