خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 4

*1946 4 خطبات محمود ہوں جو انٹرنس یا ایف۔اے پاس ہوں لیکن وہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہوں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ رکھتے ہوں، دینی امور سے واقفیت رکھتے ہوں تو ایسے نوجوانوں کو بھی جلد ہی باہر بھیجا جا سکتا ہے۔پس یہ وقت ہے کہ جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں وقف کر کے اس کامیابی اور کامرانی کو حاصل کر سکتے ہیں جو اس زمانہ میں احمدیت کے لئے مقدر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا ایک حوالہ آج ہی خدام الاحمدیہ نے شائع کیا ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کو کتنی حسرت تھی اس بات کی کہ مسلمان اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔آپ فرماتے ہیں میں نے بعض اخبارات میں پڑھا ہے کہ فلاں آریہ نے اپنی زندگی آریہ سماج کے لئے وقف کر دی ہے اور فلاں پادری نے اپنی عمر مشن کو دے دی ہے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ کیوں مسلمان اسلام کی خدمت کے لئے اور خدا کی راہ میں اپنی زندگی کو وقف نہیں کرتے۔2 رسول کریم صلی علیم کے مبارک زمانہ پر نظر کر کے دیکھیں تو ان کو معلوم ہو کہ کس طرح اسلام کی زندگی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کی جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس وقف سے مراد بھی در حقیقت وہی صحابہ کا وقف ہے۔رسول کریم صل الل ظلم کے زمانہ میں زندگی وقف کرنے کا سوال ہی نہیں تھا کیونکہ اس زمانہ میں ہجرت فرض تھی۔خواہ کسی حصہ میں کوئی شخص ایمان لاتا اس کے لئے حکم تھا کہ فوراً ہجرت کر کے مدینہ پہنچو اور خدمتِ اسلام کے لئے اپنی جان اور مال لگا دو۔ہمارے وقف اور صحابہ کے وقف میں فرق صرف اتنا ہے کہ ہم واقفین اپنے ملک سے باہر بھیجتے ہیں۔لیکن صحابہ دوسرے ملک سے اپنے ملک میں بلائے جاتے تھے۔اس زمانہ میں وقف کی یہ صورت تھی کہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاؤ۔ہمارے زمانہ میں وقف کی یہ صورت ہے کہ اپنا وطن اور اپنا گھر بار چھوڑ کر غیر ممالک میں اشاعت اسلام کے لئے چلے جاؤ۔دونوں صورتوں میں گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے، وطن سے بے وطن ہونا پڑتا ہے اور باہر جا کر دشمنوں سے جہاد کرنا پڑتا ہے۔پس ہمارے واقف جو حقیقی طور پر اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں وہ بھی مہاجر ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے وطن اور اپنے گھر بار چھوڑ دیئے اور دنیا کے گوشے گوشے میں اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ہماری جماعت میں بھی بہت سے نوجوان ایسے ہیں