خطبات محمود (جلد 27) — Page 118
*1946 118 خطبات محمود کے کیسے اعلیٰ مقام پر کھڑا کیا ہے۔شیخ مبارک احمد نے مجھے لکھا ہے کہ اس علاقہ میں بعض وحشی قبیلہ کے لوگ احمدی ہوئے تھے۔میں چار پانچ ماہ کے لئے باہر دورہ پر گیا ہوا تھا۔میرے بعد بعض رئیسوں نے یہ سمجھ کر کہ میں باہر دورہ پر ہوں۔ان حبشیوں کو مرتد کرنا چاہا۔وہ ان کے پاس گئے اور ان سے کہا دیکھو ! فلاں رئیس مرتد ہو گیا ہے، فلاں بڑا آدمی مرتد ہو گیا ہے، تم بھی ہمارے ساتھ مل جاؤ۔سب با اثر اور بار سوخ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔لیکن انہوں نے جو جواب دیا وہ پڑھ کر مجھے حیرت آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کیسا پختہ ایمان عطا کیا ہے۔وہ نہ کبھی قادیان آئے اور نہ انہوں نے ہماری کتابیں پڑھیں لیکن جو جواب انہوں نے ان رئیسوں کو دیا۔اس سے ان کے ایمان کا پتہ لگتا ہے۔انہوں نے کہا ہمیں احمدیت کا پتہ مولوی مبارک احمد صاحب سے لگا ہے۔لیکن اگر مولوی مبارک احمد صاحب بھی احمدیت سے مرتد ہو جائیں تو ہم ان کی پروا نہیں کریں گے۔میں یہ نہیں کہتا کہ احمدیوں میں کمزور آدمی نہیں ہیں۔احمدیوں میں بھی کمزور تو ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ہم پیسے ہوئے آٹے کی روٹی کھاتے ہیں لیکن کبھی کبھار آٹے میں سے گندم کا دانہ نکل آتا ہے۔اس پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ آٹا خراب ہے۔اسی طرح ہم میں بھی بعض کمزور انسان ہیں لیکن ان کی تعداد بہت ہی کم ہے۔مجھے شیخ مبارک احمد صاحب کی تحریر پڑھ کر وجد آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان میں کس قدر ز بر دست طاقت رکھی ہے۔پس احمدیت ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے مسلمانوں میں حقیقی اتحاد قائم ہو سکتا ہے اور مسلمان تمام مصائب سے نجات پاسکتے ہیں۔یہ کس قدر ظلم کی بات ہو گی کہ ہم مسلمانوں کی اس خستہ حالی کو دیکھ کر ان کے علاج کی کوشش نہ کریں۔اور ہم اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو نہیں سکتے جب تک کہ ہم منظم طور پر تبلیغ کے لئے جد وجہد نہیں کرتے۔اس علاقہ میں ہمارے ایک یا دو یا چار مبلغ کیا کام کر سکتے ہیں۔اور پھر سندھیوں کا خود تبلیغ کرنا ہمارے پنجابی مبلغوں سے بہت زیادہ موئثر ہو سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہر علاقہ کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے کچھ آدمی قادیان بھجوائیں۔وہ وہاں سے تعلیم حاصل کر کے پھر واپس جا کر اپنے اپنے علاقوں میں تبلیغ کریں۔اگر سندھی طلباء قادیان آئیں اور وہاں سال دو سال رہ کر