خطبات محمود (جلد 27) — Page 117
*1946 117 خطبات محمود ا کے احکام کی بے حرمتی کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفاد کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ہر شخص اسی نظریہ کا قائل نظر آتا ہے کہ مجھے قومی مفاد سے کیا غرض ہے میرے لئے اپنی دوستیاں ہی کافی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کے رسول کی ناراضگی سے میرا کیا بگڑ سکتا ہے کیونکہ دنیاوی طاقت جس کا نام حکومت رکھا جاتا ہے وہ میرے ساتھ ہے۔مسلمانوں میں یک جہتی نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن زیادہ اختلافات رونما ہوتے جاتے ہیں۔ایک مولوی کی رائے کے خلاف اگر مسلمان لیڈر کوئی بات کریں تو مولوی صاحب اس جماعت سے علیحدہ ہو جاتے اور ہزاروں ہزار آدمی اپنے ساتھ ملا کر ایک نئی پارٹی کھڑی کر دیتے ہیں۔اگر کسی لیڈر کی رائے کے خلاف اکثریت کوئی فیصلہ کر دے تو وہ لیڈر ایک اور جماعت کھڑی کر دیتا ہے اور اسی وجہ ނ سے مسلمانوں کا رعب دن بدن اٹھتا جارہا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے لوگوں کی آواز کا کوئی اثر نہیں۔جب بھی کوئی بات پیدا ہوتی ہے تو وہ فوراً ننگے ہو جاتے ہیں اور ان کا فتنہ ظاہر ہو جاتا ہے۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ کبھی نہ کبھی تمہاری جماعت میں بھی کوئی فتنہ کھڑا ہو جاتا ہے۔لیکن میں ان اعتراض کرنے والوں پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فتنہ کا ظاہر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ فتنہ پیدا کرنے والے اپنے آپ کو پوشیدہ نہیں رکھ سکے اور ننگے ہو گئے ہیں۔وہ فتنہ جو اندر ہی اندر کام کرتا رہے وہ زیادہ خطر ناک ہوتا ہے اس فتنہ سے جو ظاہر ہو جائے۔پس ان فتنوں کا ظاہر ہو جانا بھی ہمارے لئے مفید ہے۔ان سے ہمارا کوئی نقصان نہیں۔دوسرے مسلمانوں میں جب کوئی فتنہ کھڑا ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ بہالے جاتا ہے۔جمعيةُ الْعُلَماء والے اختلاف پیدا ہونے کی وجہ سے کانگرس کے ساتھ مل گئے اور ایک بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی اپنے ساتھ مسلم لیگ سے نکال کر لے گئے۔لیکن ہماری جماعت سے جب کوئی مولوی نکلتا ہے تو اکیلا ہی لگڑوں گوں کر کے نکل جاتا ہے اور جماعت میں کوئی فتنہ پیدا نہیں کر سکتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت میں بیداری ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ مولوی ہو گا تو اپنے گھر ہو گا ہمارا اب اس سے کیا تعلق۔افریقہ سے شیخ مبارک احمد صاحب کا خط آیا ہے جسے پڑھ کر مجھے بے انتہاء خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کو ایمان