خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 88

*1946 88 خطبات محمود نمونہ دکھایا تھا۔وہ ایک عجیب نظارہ تھا کہ نہ صرف سینکڑوں بلکہ ہزاروں سکھ پیدل چلتے اور گاتے ہوئے اپنے پنتھک امیدوار کے لئے جاتے۔اور لوگ تو کھانا کھاتے تھے کوئی کہتا تھا فلاں جگہ پر ووٹ دینے جانا ہے ہمیں تانگہ یا لاری کے لئے کرایہ دو۔مگر ان کا یہ حال تھا کہ وہ پیدل جاتے اور وہاں پہنچ کر اپنے امیدوار کے ہاتھ میں ہر ووٹر ایک ایک روپیہ دیتا چلا جاتا۔پس اگر کوئی قومی کام ہو تو قوم کو وہ بوجھ اٹھانا ہی پڑتا ہے۔لیکن اس وقت تو یہ بات ہی غلط ہے کہ یہ روپیہ قومی چندے سے خرچ ہوا ہے۔کیونکہ ہمارے پاس اور ایسے ذرائع بھی ہیں جن سے علاوہ چندے کے اور آمد ہوتی رہتی ہے لیکن آئندہ میرا ارادہ ہے کہ اس قسم کے کاموں کے لئے بھی چندے کی تحریک کی جائے تاکہ جماعت میں احساس ذمہ داری پید اہو۔(2) الیکشن سے ہم نے کئی سبق سیکھے: دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ الیکشن سے ہمیں ایک بہت بڑا فائدہ ہوا ہے اور بہت سے سبق ہم نے حاصل کئے ہیں۔ہماری جماعت کے لوگوں نے مقامی حالات کے مطابق جو فیصلے کئے تھے اکثر انہی کو مرکز نے منظور کر لیا تھا۔گویا ہم نے فیصلے نہیں کئے بلکہ خود ان جماعتوں نے جو مشورہ کر کے ہمیں اپنا فیصلہ بتایا ہم نے اسی کا اعلان کر دیا تھا۔ممکن ہے کوئی جگہ ایسی بھی ہو جہاں ہمارا کوئی ووٹر نہ ہو۔لیکن بعض جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں ہماری جماعت کا تین چار ہزار کے قریب ووٹ ہے۔تحصیل بٹالہ میں ہی اس دفعہ چھ ہزار آٹھ سو ووٹ احمدیوں کا تھا۔اصل میں ووٹ تو آٹھ ہزار کے قریب تھا لیکن بعض نقائص کی وجہ سے کچھ ووٹ خراب ہو گئے اور کچھ ووٹ بنائے ہی نہیں گئے۔ہمارے دوستوں نے ہر جگہ اپنے ووٹوں کو استعمال کیا اور اکثر مقامات پر ہمارے ووٹ مسلم لیگ کو ملے۔البتہ کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں بعض دوسرے مصالح کی وجہ سے ہم نے یونینسٹ پارٹی کی مدد کی۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یونینسٹ کے دس گیارہ ممبر جو کامیاب ہوئے ہیں ان میں سے پانچ چھ ممبر ایسے ہیں جو محض ہماری امداد کی وجہ سے جیتے ہیں۔اس کے مقابل پر ہم نے مسلم لیگ کی تو بہت زیادہ امداد کی ہے۔اس الیکشن میں ہمیں یہ تجربہ ہوا ہے کہ جس طرح ہر قربانی کے لئے عادت کی ضرورت ہے اسی طرح الیکشن کے لئے بھی لوگوں میں قربانی کی عادت پیدا کرنے کی