خطبات محمود (جلد 27) — Page 89
*1946 89 خطبات محمود ضرورت ہے۔چندہ دینے اور زندگیاں وقف کرنے کی چونکہ جماعت میں عادت پیدا ہو چکی ہے اس لئے میں نے دیکھا ہے کہ چندے کی تحریک کرو تو جماعت نہایت اعلیٰ اخلاص کا نمونہ پیش کرتی ہے۔زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کرو تو نوجوان اپنی زندگیاں فوراً وقف کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آہستہ آہستہ جماعت میں ان باتوں کی عادت پید اہو گئی ہے اس لئے ہر موقع پر ان کا قدم ترقی کی طرف اٹھتا ہے۔لیکن ہر نیا کام ایک قسم کا امتحان بن جاتا ہے۔مجھے کئی دفعہ خیال آیا ہے کہ چندے میں اور زندگیاں وقف کرنے میں اور بعض دوسری قسم کی قربانیوں میں کوئی بڑی سے بڑی جماعت بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اگر کانگرس بھی زندگیاں وقف کرنے کا مطالبہ کرے تو میرے خیال میں اتنے لوگ زندگیاں وقف نہ کریں جتنے ہمارے نوجوان کرتے ہیں۔لیکن اگر ہمارے نوجوانوں کو قید ہونا پڑے تو وہ گھبر ائیں گے کیونکہ یہ ان کے لئے ایک نیا کام ہو گا۔لیکن اگر عادت پڑ جائے تو کا نگرس ہم سے بہت پیچھے رہ جائے گی۔پس صرف عادت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اگر عادت پید اہو جائے تو ہمارے آدمی اس معاملہ میں کانگرس کے آدمیوں سے ہیں گنے زیادہ جرآت دکھائیں گے کیونکہ ہمارے اندر وہ ایمان موجود ہے جو ان میں نہیں۔انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ ہر نئے کام سے ہچکچاتا ہے اور وہ کام اس کے لئے امتحان بن جاتا ہے۔اس الیکشن کے متعلق مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے کمزوریاں دکھائی ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ جماعت کے مُعتد بہ حصہ نے کمزوری دکھائی ہے، میں یہ بھی نہیں کہتا کہ چالیس پچاس ہزار میں سے پانچ ہزار نے کمزوری دکھائی ہے، میں یہ بھی نہیں کہتا کہ دو تین ہزار نے کمزوری دکھائی ہے۔مگر دو تین سو آدمی ضرور ایسا ہے جس نے کمزوری دکھائی ہے۔وہ کمزوریاں تین قسم کی ہیں۔ایک تو یہ کہ بعض لوگوں نے اخلاص کے لباس میں اپنی ذاتی خواہشات کو پورا کیا ہے۔اگر ان کو کسی یونینسٹ امیدوار سے ہمدردی تھی تو انہوں نے یونینسٹ کے حق میں رائے دی اور اگر ان کو کسی مسلم لیگ کے امید وار سے ہمدردی تھی تو انہوں نے مسلم لیگ کے امیدوار کے حق میں رائے دی۔اور سلسلہ کے مفاد کو مد نظر نہیں رکھا بلکہ ذاتی ہمدردی کو اخلاص کا رنگ