خطبات محمود (جلد 27) — Page 87
*1946 87 خطبات محمود میں جھجک محسوس کرے گی تو میں انشاء اللہ خود اس بوجھ کو اٹھاؤں گا۔ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم جیت جائیں اور پچھلی دفعہ بھی ہمارا مقصد یہ نہیں تھا۔بلکہ پچھلی دفعہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ ہم نے احرار سے زیادہ ووٹ لینے ہیں اس کے لئے میں نے دوستوں سے کہا تھا کہ تم ساری تحصیل میں پھیل جاؤ، اپنے دوستوں سے ملو اور کوشش کرو کہ وہ احمدی امید وار کو ووٹ دیں۔رشتہ داروں کے پاس جا کر کوشش کرو اور ان کو اس بات پر آمادہ کرو کہ وہ احمدی امیدوار کو ووٹ دیں تاکہ ہمارے ووٹ احرار سے زیادہ ہو جائیں اور ان کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہو جائے کہ ہم نے احمدیوں کو ان کے مرکز میں شکست دے دی ہے۔گو اس الیکشن میں میاں بدر محی الدین صاحب جیت گئے لیکن ہمارے امیدوار کے ووٹ احرار سے تقریباً تین سو زیادہ تھے۔اس طرح دنیا کو یہ معلوم ہو گیا کہ احرار کا یہ دعویٰ کہ ہم نے قادیان کو فتح کر لیا ہے بالکل غلط تھا۔اگر فتح کر لیا ہو تا تو احمدیوں کو ووٹ ان سے زیادہ کیوں ملتے۔پس یہاں ہمارے ایک نمائندہ کے جیتنے کا سوال نہیں بلکہ یہ ایک جماعتی کام ہے۔اگر اس کے لئے چندہ بھی کرنا پڑے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر مخلص احمدی کا فرض ہو گا کہ اس میں حصہ لے اور ہر الیکشن پر ثابت کر دے کہ احرار کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ انہوں نے قادیان کو فتح کر لیا ہے۔لیکن علاوہ اس ذریعہ کے جو میں نے بتایا ہے اور ذرائع بھی ہیں۔چندے کے علاوہ ہماری جماعت کو اور بھی آمد ہوتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس کے علاوہ میرے ذہن میں یہ بھی سکیم ہے کہ جماعت کے اندر بھی یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ وہ ان اخراجات میں حصہ لے جو عام چندہ ہے اس سے ہمیں خرچ کی ضرورت نہیں۔لیکن اس کے لئے خاص طور پر جماعتوں سے چندہ لینا ان کی اپنی بیداری کے لئے ضروری ہے۔جب ہر احمدی اس میں حصہ لے گا تو اس کو احساس ہو گا کہ یہ میرے فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے۔چندے کی غرض صرف یہی نہیں ہوتی کہ روپیہ فراہم ہو جائے بلکہ یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان کے اندر احساس پید اہو جائے کہ اس کام کو پورا کرنا میرے ذمہ ہے۔پس ایک سکیم میرے ذہن میں یہ بھی ہے کہ آئندہ اس کے لئے چندہ مانگا جائے تا جماعت میں بیداری پیدا ہو۔پچھلی دفعہ الیکشن میں بٹالہ کے حلقہ کے سکھوں نے اپنی بیداری کا ایک حیرت انگیز