خطبات محمود (جلد 27) — Page 86
*1946 86 خطبات محمود خرچ آئے گا۔ہم نے دنیا میں یونیورسٹیاں بھی بنانی ہیں، کالج اور سکول بھی بنانے ہیں اور ہم نے دنیا میں مبلغین کا جال بھی پھیلانا ہے۔آخر احمدیت قادیان کے ارد گرد تک تو نہیں رہے گی۔احمدیت نے تو ساری دنیا میں پھیلنا ہے۔پس ہمارا مقصد صرف یہی نہیں کہ یہاں ایک کالج بنادیا جائے یا ایک سکول بنا دیا جائے یا چند مبلغ تبلیغ کے لئے مقرر کر دیئے جائیں بلکہ ہمارا مقصد ساری دنیا میں کالج بنانے کا ہے، ہمارا مقصد ساری دنیا میں یونیورسٹیاں بنانے کا ہے اور ہمارا مقصد ساری دنیا میں سکول بنانے کا ہے اور ہمارا مقصد ہزار ہا بلکہ لکھو کھہا مبلغین کو ساری دنیا میں پھیلانے کا ہے۔ان کے لئے اربوں ارب روپیہ کی ضرورت ہو گی بلکہ ہم تو خد اتعالیٰ کے فضل سے ایسی طاقت کے امیدوار ہیں کہ جس کا مقابلہ بڑی بڑی حکومتیں بھی نہ کر سکیں اور یہ مقصد اپنا حق لینے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ان لوگوں کو جن کا کوئی تعلق نہیں خواہ مخواہ تکلیف ہو رہی ہے۔لیکن ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ خواہ سو سال تک ہم ہارتے چلے جائیں ہم ہر دفعہ قادیان کی سیٹ کے لئے لڑیں گے کیونکہ یہ ہماری مرکزی جگہ ہے اور ہم اس جگہ کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔اگر سارے پنجاب میں دوسری جگہوں پر دوسری پارٹیاں ہم سے مدد لیتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس جگہ کے متعلق ہمارا یہ حق تسلیم نہ کیا جائے کہ یہ سیٹ ہمیں بہر حال ملنی چاہئے تا دشمن یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم نے قادیان میں احمدیوں کو شکست دے دی ہے۔بلکہ ہر پانچ سال کے بعد یہ بات واضح ہوتی رہے کہ ان کا قادیان کے متعلق فتح کا ڈھنڈورا پیٹنا بالکل غلط ہے۔آخر جماعت کا اعتبار مجھ پر ہے اور وہ مجھے چندہ دیتی ہے۔اس خرچ پر دوسروں کو اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔پھر یہ ایک واضح بات ہے کہ الیکشن میں اپنے آدمیوں کے پھیلانے میں اور لاریوں وغیرہ کے حاصل کرنے میں بہت کچھ خرچ ہوتا ہے اور اس دفعہ تو لاریوں پر خصوصاً بہت خرچ ہوا ہے۔بعض لاریوں والے سو سو روپیہ روزانہ مانگ لیتے تھے اور ایک نے تو اس سے بھی زیادہ مانگا۔عام طور پر پنجاب میں ایک ماہ یا اس سے زیادہ لینے کے لئے ساٹھ روپے روزانہ کے خرچ سے ایک ایک لاری ملتی رہی ہے۔چنانچہ کئی امیدواروں نے اس خرچ پر ایک ایک ماہ تک لاریاں لیں۔اس قسم کے اخراجات چونکہ ضروری ہوتے ہیں اس لئے ہر امید وار نے یہ خرچ کئے۔اور جس نے نہیں کئے وہ بری طرح ہار گیا۔اگر جماعت اس بوجھ کے اٹھانے ر