خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 85

*1946 85 55 خطبات محمود لئے روپیہ بھی خرچ کرنا پڑے گا۔کہا جاتا ہے کہ یونینسٹ نے جو پچیس لاکھ روپیہ لوگوں سے جمع کیا تھاوہ سارے کا سارا خرچ ہو گیا ہے۔لیکن جیتے ان کے صرف دس آدمی ہیں بلکہ اب تو اس پارٹی میں صرف چھ رہ گئے ہیں۔پچیس لاکھ تو انہوں نے فنڈ سے خرچ کیا اور جو نما ئندوں نے خود خرچ کیا وہ الگ ہے۔اسی طرح مسلم لیگ کا روپیہ بھی خرچ ہوا ہے۔دوسرے ممبر تو زیادہ تر اپنے زور اور طاقت پر کھڑے ہوتے ہیں لیکن ہماری جماعت میں ابھی ایسے مالدار آدمی نہیں کہ وہ اپنے زور اور طاقت پر کھڑے ہو سکیں۔اگر وہ کھڑے ہوں گے تو لازمی بات ہے کہ وہ سامان نہ ہونے کی وجہ سے ہار جائیں گے۔اس لئے اگر ہم نے اپنے آدمی کھڑے کرنے ہیں تو یقیناً جماعت کو ان پر روپیہ خرچ کرنا پڑے گا۔پس یہ سوال ہی غلط ہے کہ کیوں غریب آدمیوں کا چندہ ضائع کیا جارہا ہے۔اول تو ہم کہتے ہیں تم کو اس سے کیا تکلیف ہو رہی ہے۔دینے والے ہم، خرچ کرنے والے ہم عجیب بات ہے کہ جن کا روپیہ ہے ان کو تو احساس ہی نہیں ہوتا اور جن کا روپیہ نہیں وہ خوانخواہ شور مچا رہے اور اپنی ہمدردی ظاہر کر رہے ہیں۔ہمارے ہاں اس کے متعلق ایک دوسری مثال بھی ہے کہ ”ماں سے زیادہ چاہے کٹنی 1 کہلائے “ یعنی جو شخص اصل تعلق والے سے زیادہ محبت کا اظہار کرتا ہے اُسے کٹنا کہا جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ یہ بات ہی غلط ہے کہ چندے کا روپیہ الیکشن پر خرچ کیا گیا ہے۔اب ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنی بڑھ چکی ہے اور اتنی طاقت پکڑ چکی ہے کہ اس کے پاس چندے کے علاوہ آمد کے اور بھی ذرائع ہیں اور وہ آمد خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر سال بڑھتی چلی جاتی ہے۔چندے کے سارے روپے کو اشاعتِ اسلام پر لگادینے کے باوجود پھر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری دوسری آمدنیوں سے اتنار و پیہ مل سکتا ہے اور ملنا شروع ہو گیا ہے جس کے ذریعہ سے ہم اپنے ایسے حقوق پر جن کا ملنا جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے روپیہ خرچ کر سکتے ہیں۔اور ایسی سکیمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سامنے ہیں کہ جن کے بعد ہماری یہ ترقی خدا تعالیٰ کے فضل سے اور بھی بڑھ جائے گی۔یہ تو ہزاروں کے خرچ پر شور مچاتے ہیں حالانکہ جو مقصد ہمارے سامنے ہے اور جس کام کا ہم نے بیڑا اٹھایا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہزاروں کا بھی سوال نہیں اربوں ارب روپیہ