خطبات محمود (جلد 27) — Page 654
*1946 654 خطبات محمود کی آمدنی اتنی نہیں ہے جتنی کہ پرانی فوج کی تھی۔اور یہ امر بھی دنیوی لحاظ سے سخت خطر ناک ہے۔غرض اس کے کسی پہلو پر بھی غور کیا جائے یہ امر خالی از خطرہ نہیں ہے۔تحریک جدید کے دفتر دوم میں حصہ لینے والے مجاہدین کی تعداد کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔کیا دفتر اول کی پہلی میعاد ختم ہونے تک یعنی دس سال میں اتنے بھی نئے مجاہدین پیدا نہ ہو سکتے تھے کہ ان میں ہر سال پانچ سو نیا ملازم ہو تا، پانچ سو نیا صناع ہو تا، پانچ سو یا تاجر ہوتا اور پانچ سو نیا پیشہ ور ہو تا۔کیا اتنی بڑی جماعت سے اتنا بھی نہیں ہو سکتا تھا؟ یہ ظاہری امر بالکل بدیہی تھا کہ اتنی بڑی جماعت سے سال میں پانچ سونٹے مجاہدین پید اہوں اور دس سالوں کے بعد ایک نئی پانچ ہزاری فوج تیار ہو جائے۔جہاں تک حساب کا تعلق ہے ، حساب کا معاملہ صاف ہے۔اگر جماعت صحیح طور پر ترقی کرتی جائے تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ہر سال پانچ سو بلکہ ہزار ڈیڑھ ہزار آدمی جماعت میں ایسے نہ ہوں، جو پہلے چھوٹے تھے اور اپنے والدین کے ساتھ رہتے تھے اور اب اُنہوں نے اپنا کوئی الگ کام شروع کیا ہے اور ان میں سے کوئی لوہار بن گیا ہے، کوئی معمار بن گیا ہے، کوئی پیشہ ور بن گیا ہے اور کوئی تاجر بن گیا ہے۔اور ایسے ہی احمدیوں کی تعداد ہندوستان میں ہر سال ہزار ڈیڑھ ہزار ہونی چاہئے۔اور اگر کم از کم تعداد بھی لے لی جائے تو پانچ سو سے کسی صورت میں بھی کم نہیں ہو سکتا اور یہ تعداد دس سال کے عرصہ میں پانچ ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ایسے آدمیوں کی آمدنی جو دکاندار یا پیشہ ور ہیں سو ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار بن جاتی ہے اور پانچ ہزار کی چھ سات لاکھ ماہوار بن جاتی ہے جو سال میں اسی نوے لاکھ بنتی ہے۔اگر وہ اپنی آمدن میں سے پانچ فیصدی چندہ بھی تحریک جدید میں دیں تو چار پانچ لاکھ سالانہ چندہ تو اس نئی جماعت سے ہی ہو جانا چاہئے۔مگر تحریک جدید کے گزشتہ سال کے وعدے پچانوے ہزار کے قریب تھے اور ان میں سے اس وقت تک ادا ئیگی صرف پچاس ہزار ہوئی ہے۔اور جو پرانے حصہ لینے والے ہیں اُن کے وعدے دولاکھ ساٹھ ہزار کے تھے، جن میں سے اس وقت تک دو لاکھ چالیس ہزار وہ ادا کر چکے ہیں۔یعنی پرانے لوگوں نے پچانوے فیصدی رقم ادا کر دی ہے اور باقی وہ ادا کر رہے ہیں اور چونکہ اُن کی ادائیگی کی رفتار بھی کافی تیز ہے اس لئے امید کی جاتی ہے کہ وہ جنوری تک ساری رقم ادا کر دیں گے۔ان کے مقابلہ میں نئے نوجوانوں نے کوئی اچھا نمونہ نہیں