خطبات محمود (جلد 27) — Page 655
*1946 655 خطبات محمود دکھایا اور بجائے اِس کے کہ وہ پُرانوں کے مقابلہ میں جوش اور اخلاص زیادہ دکھاتے اور اپنی قربانیوں کی ایک مثال قائم کر دیتے اُنہوں نے چندوں کی ادائیگی کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔اور چھیانوے ہزار کے وعدوں میں سے صرف پچاس ہزار روپیہ ادا کیا ہے اور چھیالیس ہزار اب تک بھی ادا نہیں کیا۔اس کے یہ معنی ہوئے کہ اُنہوں نے اپنے چندوں میں سے صرف باون فیصدی ادا کیا ہے اور نئی فوج کی فیصدی کو پرانی فوج کی فیصدی سے کوئی نسبت ہی نہیں۔کیونکہ پرانے مجاہدین نے پچانوے فیصدی چندے ادا کر دیئے ہیں اور باقی ادا کر رہے ہیں۔مگر نئی فوج نے صرف باون فیصدی ادا کئے ہیں۔پس اس قسم کے حالات نہایت تشویشناک ہیں۔اگر یہی حالت رہی تو کل کو ہمیں اپنے بنے بنائے مشن چھوڑنے پڑیں گے۔مگر میں یہ تو نہیں سمجھ سکتا کہ ہم اپنے مشن چھوڑ دیں گے کیونکہ جب تک ہمارے اندر ایمان باقی ہے ہم موجودہ مشن تو نہیں چھوڑیں گے مگر جماعت کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے حیرت ضرورت آتی ہے۔یادر کھو جماعت کسی ایک نسل کا نام نہیں ہے بلکہ جماعت متواتر کئی نسلوں کا نام ہے۔جس کے سپر داس وقت ان جھنڈوں کو گاڑنے کا کام ہے اور پھر اُن بنیادوں کو مستحکم بنانے کا کام ہے جن پر ہماری آئندہ نسلوں کے محلات تیار ہوں گے۔جماعت کے معنی تو یہ ہیں کہ ایک کے بعد دوسری نسل، دوسری کے بعد تیسری نسل، تیسری کے بعد چوتھی نسل متواتر قربانیاں کرتی چلی جائے۔اس وقت ہم جو قربانیاں کر رہے ہیں ، ہماری قربانی کا انحصار جماعت پر نہیں بلکہ جتھے پر ہے۔یعنی کچھ لوگ جمع ہو کر جتھے کی شکل میں قربانیاں کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں یہ تو یقین رکھتا ہوں کہ یہ گروہ اپنی زندگیوں تک متواتر قربانیاں پیش کرتا چلا جائے گا۔لیکن چونکہ یہ تحریک ایک سال یا دو سال یا دس سال کے لئے جاری نہیں کی گئی بلکہ یہ تحریک اس کے بعد ہیں اور بیس کے بعد تیس اور تیس کے بعد چالیس سالوں تک اور اس کے بعد تک چلی جائے گی اس لئے ضروری ہے کہ نوجوان جوش اور اخلاص کے ساتھ دین کے لئے قربانیاں کریں اور ہر نئی فوج پرانی فوج سے بڑھ کر قربانیاں کرتی چلی جائے اور نَسْلًا بَعْدَ نَسْلِ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے۔مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان اپنی اصلاح کریں۔جب تک نوجوانوں کے اندر قربانی کا مادہ نہیں پیدا ہوتا، جب تک نوجوانوں کے اندر قربانی کے لئے