خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 653 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 653

*1946 653 خطبات محمود کا اندازہ اس کا بھی رکھنا چاہئے۔گویا یہ کل خرچ پانچ لاکھ میں ہزار روپیہ بن جاتا ہے۔گو اِس وقت خرچ کی اوسط اتنی نہیں ہے مگر اب جبکہ ہمارے مبلغین باہر جا اور آرہے ہیں یقینا ہمیں اسی قدر بلکہ اس سے بھی زیادہ اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے۔موجودہ اخراجات بھی تین لاکھ سالانہ سے اوپر ہیں۔مگر پچھلے سال کے تحریک جدید کے وعدوں میں سے صرف دولا کھ چالیس ہزار روپیہ اس وقت تک وصول ہوا ہے۔سر دست تو ہم اپنے مبلغین سے کہہ رہے ہیں کہ جس طرح ہو سکے تنگی سے گزارہ کرو۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ بوجھ ان سے بھی زیادہ عرصہ تک برداشت نہیں ہو سکتا۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص چند مہینے تک ہمت، دلیری اور قربانی سے یہ بوجھ برداشت کرے اور کفایت شعاری سے کام لے کر اپنے کام کو سر انجام دے لے۔مگر اس قسم کے بوجھ ہمیشہ کے لئے تو برداشت نہیں کئے جاسکتے۔پس کچھ بھی ہو ہمارے مبلغین انتہا درجہ کی قربانی اور اخلاص سے بھی کام کریں۔بہر حال قریب کے عرصہ میں یہ اخراجات ہم کو بڑھانے پڑیں گے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ان کو بڑھائے بغیر ہم اس عظیم الشان کام کو چلا ہی نہیں سکیں گے۔ہم نے اس کے متعلق ایک نئی سکیم یہ سوچی تھی کہ دفتر دوم کے مجاہدین کی گل رقم پورے نو سال تک جمع ہوتی رہے گی۔اور اس طرح ہم ایک مضبوط ریز روفنڈ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور پھر اس روپیہ کو تجارت وغیرہ میں لگا کر بڑھایا جاسکے گا۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت دن بدن بڑھتی اور پھیلتی چلی جائے گی اس لئے پانچ ہزار سے بڑھ کر دس ہزار اور دس ہزار سے بڑھ کر پندرہ ہزار اور پندرہ ہزار سے بڑھ کر بیس ہزار تک مجاہدین پیدا ہوتے جائیں گے جو اخلاص اور جوش سے قربانیاں کرنے والے ہوں گے اور اس طرح یہ بوجھ پھیل کر ہلکا ہوتا چلا جائے گا۔مگر موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سکیم بھی کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ تحریک جدید کے دفتر دوم میں حصہ لینے والے مجاہدین کی تعداد بہت ہی کم ہے اور اُن کے وعدوں کی ادائیگی تو اس سے بھی کم ہے۔یہ امر نہایت حیران کن اور تشویشناک ہے اور اس کے دو ہی نتیجے نکالے جاسکتے ہیں۔یا تو یہ کہنا پڑے گا کہ دفتر دوم میں حصہ لینے والی نئی فوج میں وہ جوش اور اخلاص نہیں جو دفتر اول میں حصے لینے والی پرانی فوج میں تھا۔یہ امر بھی تشویشناک ہے۔اور یا یہ کہنا پڑے گا کہ نئی فوج